خلیج اردو
نئی دہلی: بھارت نے آج جمعہ کے ان ایک بیان میں کہا ہے کہ تکنیکی خرابی کی وجہ سے حادثاتی طور پر ان کا میزائل فائر ہوکر پاکستان میں جاگر ہے۔ بھارت نے اسے انتہائی افرسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہا کہ کہ واقعے کی ‘کورٹ آف انکوائری’ کا حکم دیں گے۔
یہ اعلان افواج پاکستان کے ترجمان ادارے آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل بابر افتخار کی جانب سے کیے گئے پریس کانفرنس کے ایک دن بعد ہوا ہے۔ اس پریس کانفرنس نے جنرل افتخار نے بتایا تھا کہ بھارت سے لانچ کیا گیا ایک تیز رفتار پروجیکٹ پاکستان کی فضائی حدود میں داخل ہوا اور خانیوال ضلع میں میاں چنوں کے قریب گرا۔
اس حوالے سے جمعرات کی رات، پاکستان نے اسلام آباد میں ہندوستانی سفارت خانے کے ناظم الامور کو طلب کیا اور بھارت کی جانب سے پاکستان فضائی حدود کی "بلا اشتعال” خلاف ورزی پر سخت احتجاج کیا۔ پاکستان نے اسے سپرسونک "پروجیکٹائل” قرار دیا۔
بھارتی وزارت دفاع نے اپنے وضاحتی بیان میں کہا ہے کہ نو مارچ کو، معمول کی دیکھ بھال کے دوران کسی تکنیکی خرابی کی وجہ سے ایک میزائل حادثاتی طور پر فائر ہوا۔ اس پر دہلی سرکار نے سنجیدگی سے غور کیا ہے اور ایک اعلیٰ سطحی کورٹ آف انکوائری کا حکم دیا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ معلوم ہوا ہے کہ میزائل پاکستان کے ایک علاقے میں گرا۔ یہ واقعہ انتہائی افسوسناک ہے لیکن خوشی کی بات یہ ہے کہ حادثے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
معاملے سے واقف لوگوں نے کہا کہ تحقیقاتی ٹیم واقعے کے تمام ممکنہ پہلوؤں کی تحقیقات کرے گی۔
ڈی جی آئی ایس پر آر میجر جنرل بابر افتخار نے جمعرات کی شام پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا کہ بھارت کی جانب سے داغا جانے والا غیر مسلح پراجیکٹائل 124 کلومیٹر کا سفر طے کرتے ہوئے پاکستانی فضائی حدود میں داخل ہوا اور میاں چنوں کے قریب گرا۔
جنرل بابر نے کہا کہ ’’شام 6.43 پر، پاکستان ایئر فورس کے ایئر ڈیفنس آپریشن سینٹر نے ایک تیز رفتار پرواز کرنے والی چیز کی نشاندہی کی جو ہندوستانی علاقے کے اندر سے اٹھایا۔ اس چیز نے اپنے ابتدائی راستے سے انحراف کیا اور اچانک پاکستانی علاقے کی طرف حرکت کی اور پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بالآخر شام 6.50 بجے میاں چنوں کے قریب گرا،”
انہوں نے کہا کہ "یہ ایک سپرسونک اڑنے والی چیز تھی، غالباً ایک میزائل تھا، لیکن یہ یقینی طور پر غیر مسلح تھا،”
خلیج ٹائمز کے مطابق اگرچہ بھارتی حکام نے میزائل کا نام نہیں بتایا تاہم پاکستانی فوج کی جانب سے دی گئی تفصیل سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ براہموس میزائل ہو سکتا ہے۔ تاہم ابھی تک اس کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
اپنی پریس کانفرنس میں جنرل بابر افتخار نے کہا کہ پاک فضائیہ نے ہندوستان میں سرسا کے قریب اس کے اصل مقام سے لے کر میاں چنوں کے قریب اس کے اثر کے مقام تک پرواز کے مکمل راستے کی مسلسل نگرانی کی۔
بھارت کی جانب سے وضاحت کو پاکستان میں سوشل مڈیا پر تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔
Source: Khaleej Times






