
خلیج اردو
تہران:ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی صدر کی جانب سے آئندہ ہفتے مذاکرات شروع ہونے کے دعوے کو واضح طور پر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ نئے مذاکرات کے آغاز کے لیے کوئی معاہدہ، انتظام یا بات چیت نہیں ہوئی۔
وزیر خارجہ نے مزید وضاحت کی کہ ایران کی جانب سے فی الحال مذاکرات کے لیے کوئی منصوبہ طے نہیں کیا گیا۔ انہوں نے امریکی قیادت کے حالیہ بیانات کو سیاسی دعوے قرار دیا۔
اس کے ساتھ ہی ایرانی وزیر خارجہ نے اعلان کیا کہ ایران کی شوریٰ نگہبان نے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی سے تعاون معطل کرنے کے بل کی توثیق کر دی ہے۔ عباس عراقچی کے مطابق، ایرانی پارلیمنٹ پہلے ہی یہ بل منظور کر چکی تھی، اور شوریٰ نگہبان کی منظوری کے بعد اب یہ قانونی طور پر حکومت پر لازم ہو گیا ہے کہ وہ آئی اے ای اے کے ساتھ معاہدے کی معطلی پر عمل کرے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت پر سامنے آئی ہے جب خطے میں ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان تناؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، اور ایران کا IAEA سے تعاون ختم کرنا عالمی برادری کے لیے نئی تشویش کا باعث بن سکتا ہے۔







