
خلیج اردو
ایران نے تل ابیب پر 10 خیبر شکن میزائل داغنے کا دعویٰ کیا ہے جس کے نتیجے میں متعدد عمارتیں تباہ ہو گئیں جبکہ مزید دو اسرائیلی ہلاک ہونے کے بعد ہلاکتوں کی مجموعی تعداد تیرہ ہو گئی ہے۔
ایرانی فوج کے ذیلی ادارے پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے امریکی بحریہ کو بھی خیبر شکن میزائل سے نشانہ بنایا ہے، تاہم اس حوالے سے آزاد ذرائع سے فوری تصدیق سامنے نہیں آئی۔
ادھر کویت میں امریکی فوجی اڈے پر بھی ڈرون حملے کی اطلاعات ہیں تاہم کسی جانی یا بڑے مالی نقصان کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس نیوز کے مطابق ایران کی جانب سے اسرائیل اور خلیجی ممالک پر داغے جانے والے میزائل جدید اور انتہائی خطرناک نوعیت کے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ان میزائلوں میں تقریباً 40 پاؤنڈ وزنی چھوٹے بم نصب ہوتے ہیں جو زمین پر گرنے کے بعد میلوں تک دھماکہ خیز مواد اور دھاتی ٹکڑے پھیلا سکتے ہیں جس سے بڑے پیمانے پر تباہی کا خدشہ ہوتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی یہ کشیدگی پورے مشرق وسطیٰ کو وسیع جنگ کی طرف دھکیل سکتی ہے جس کے اثرات عالمی سلامتی اور توانائی کی منڈیوں پر بھی پڑ سکتے ہیں۔







