
خلیج اردو
ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جنگ بندی سے متعلق دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ تہران نے کسی قسم کی جنگ بندی کی درخواست نہیں کی۔ ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ "آبنائے ہرمز پر سرخ لکیر کھینچ دی گئی ہے” اور اس حوالے سے مستقبل کا فیصلہ صرف تہران اور عمان کریں گے۔
عباس عراقچی کے مطابق امریکہ کے ساتھ کوئی باضابطہ مذاکرات نہیں ہو رہے بلکہ صرف پیغامات کا تبادلہ ہوا ہے، جو اسٹیو وٹکوف کے ذریعے پہنچائے گئے۔ انہوں نے کہا کہ "پیغامات وصول کرنے کا مطلب مذاکرات نہیں ہوتا” اور ایران نے امریکا کی متعدد تجاویز پر کوئی جواب نہیں دیا۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز مکمل طور پر کھلی ہے، تاہم یہ ان ممالک کے لیے بند ہے جو ایران کے خلاف جنگ میں شامل ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران زمینی جنگ کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور کسی بھی صورتحال کا مقابلہ کر سکتا ہے۔
پاسداران انقلاب کے مطابق آبنائے ہرمز مکمل طور پر ایران کے کنٹرول میں ہے اور امریکی صدر کے بیانات "مضحکہ خیز” ہیں۔ ایرانی سرکاری ذرائع نے الزام عائد کیا کہ ٹرمپ محفوظ راستہ حاصل کرنے کے لیے اس نوعیت کے بیانات دے رہے ہیں۔
یہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ خطے میں کشیدگی بدستور برقرار ہے اور فریقین کے بیانات میں تضاد کے باعث صورتحال مزید پیچیدہ ہو رہی ہے۔






