
خلیج اردو
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے جنگ بندی کی درخواست کر دی ہے، اور نئی قیادت کی جانب سے مذاکرات کے لیے رابطہ کیا گیا ہے۔ ٹرمپ کے مطابق "ایران کے نئے صدر پہلے سے زیادہ ذہین اور کم شدت پسند ہیں”۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ جنگ بندی پر غور اسی صورت ہوگا جب آبنائے ہرمز کو عالمی آمد و رفت کے لیے کھول دیا جائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ "جب تک آبنائے ہرمز نہیں کھلتی، ایران پر شدید بمباری جاری رہے گی”۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکہ ایران کے خلاف اپنے اہداف حاصل کر چکا ہے، جن میں ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا شامل ہے۔ ان کے مطابق "ایران میں رجیم تبدیل ہو چکی ہے اور اب وہاں مزید قیام کی کوئی ضرورت نہیں رہی”۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا ہے اور اس کی دوبارہ تعمیر میں 15 سے 20 سال لگ سکتے ہیں، جبکہ امریکہ آئندہ دو سے تین ہفتوں میں ایران سے انخلا کر سکتا ہے۔
ٹرمپ کے بیانات نے خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں نئی بحث چھیڑ دی ہے، خاص طور پر آبنائے ہرمز کی بندش اور عالمی تجارت پر اس کے اثرات کے حوالے سے۔
یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ جنگ کے خاتمے سے متعلق بیانات کے باوجود زمینی حقائق اب بھی غیر یقینی اور پیچیدہ ہیں۔







