عالمی خبریں

ایران میں کم عمری بیٹی کو بے دردی سے قتل کرنے والے باپ کو معمولی سزا

14 سالہ بیٹی کو قتل کرنے والے باپ کو ایران میں صرف 9 سال کی قید ، باپ نے بیٹی کو نام نہاد غیرت کے نام پر قتل کیا تھا

تہران(خلیج اردو) ایران میں اپنے 14 سالہ بیٹی کو قتل کرنے والے سنگدل باپ کو عدالت نے صرف 9 سال کی سزا سنائی جبکہ بیٹی کی ماں چاہتی تھی کہ قاتل کو پھانسی کی سزا سنائی جائے۔

21 مئی کو رواں سال رومینہ اشرف کے والد نے اسے اس وقت قتل کیا جب وہ محو خواب تھی۔ بیٹی نے باپ کی مرضی کے بغیر اپنے سے 15 سال بڑی عمر کے شخص سے شادی کی تھی جو اس کے باپ کو ناگوار گزری اور انہوں نے اپنی بیٹی کا سرتن سے جدا کیا۔

اس کے باوجود کہ حکام نے کیس کو خصوصی حیثیت میں حل کرنے کا دعویٰ کیا تھا ، اتنی معمولی سزا پر بیٹی کی ماں نے مایوسی کا اظہار کیا ہے۔

رومینہ کی ماں رانا دشتی نے میڈیا کو بتایا کہ عدالتی فیصلے پر سخت مایوسی ہوئی۔ میں نہیں چاہتی کہ میرا شوہر پھر واپس آکر میرے گاؤں آئے ، فیصلے پر نظرثانی کرکے میرے شوہر کو پھانسی کی سزا سنائی جائے۔

اس کے باوجود کے ایران میں شادی کیلئے قانونی عمر 13 سال ہے ، رومانیہ سے شادی کرنے والے رحمان خواری کو بنا کسی جرم کی نشاندہی کیے ، 2 سال جیل کی سزا سنائی گئی ہے۔

اس واقعہ پر ایران میں کافی غم و غصہ کا اظہار کیا گیا تھا جس کے بعد ایرانی صدر حسن روحانی نے واقعہ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے فوری انصاف کی ہدایت کی تھی۔

Khaleej Times

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button