عالمی خبریں

سری لنکا میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے کم از کم 31 افراد ہلاک

خلیج اردو: سری لنکا میں مسلسل موسلادھار بارشوں کے بعد آنے والے سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ نے تباہی مچا دی، جس کے نتیجے میں اس ہفتے کم از کم 31 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے جبکہ 14 تاحال لاپتہ ہیں۔ یہ اعداد و شمار جمعرات کو ڈیزاسٹر مینجمنٹ سینٹر (ڈی ایم سی) نے جاری کیے۔

سب سے زیادہ ہلاکتیں وسطی چائے کے پیداواری علاقے بادولا میں ہوئیں، جہاں رات کے وقت پہاڑی تودے گھروں پر گرنے سے 16 افراد زندہ دفن ہو گئے۔ ملحقہ نوارا ایلیا ضلع میں بھی اسی نوعیت کے حادثے میں مزید چار افراد ہلاک ہوئے۔ باقی اموات مختلف علاقوں سے رپورٹ ہوئیں۔

کیچڑ برد ہونے والے تقریباً 400 گھروں کو شدید نقصان پہنچا، جبکہ 1,100 سے زائد خاندانوں کو عارضی پناہ گاہوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ خراب موسم کے باعث حکومت نے ملک بھر میں فائنل ایئر کے اسکول امتحانات دو دن کے لیے معطل کر دیے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق ملک بھر میں 100 ملی میٹر تک بارش کا امکان ہے، جبکہ شمال مشرقی علاقوں میں جمعرات کے روز 250 ملی میٹر تک بارش ہونے کی پیش گوئی ہے۔

اس ہفتے موسم سے متعلق ہلاکتوں کی تعداد پچھلے سال جون کے بعد سب سے زیادہ ہے، جب شدید بارشوں کے بعد 26 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ دسمبر میں بھی سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے 17 افراد جان کی بازی ہار گئے تھے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ سری لنکا کی زرعی زمینوں اور پن بجلی کے لیے مون سون بارشیں اہم ہیں، لیکن موسمیاتی تبدیلی کے باعث ملک میں تباہ کن سیلابوں کا خطرہ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔

 

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button