عالمی خبریں

افغانستان میں طالبان حکومت کے سخت تعزیری قوانین، ایک سال میں 1200 افراد کو کوڑے، 6 کو سرعام سزائے موت، خواتین بھی نشانہ، عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ

خلیج اردو
افغانستان میں طالبان حکومت کے تحت سخت تعزیری قوانین کے نفاذ سے متعلق ایک نئی رپورٹ میں چونکا دینے والے انکشافات سامنے آئے ہیں۔ آمو ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران تقریباً 1200 افراد کو کوڑے مارے گئے جبکہ 6 افراد کو سرعام سزائے موت دی گئی۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ سزائیں ملک کے مختلف صوبوں میں دی گئیں جن میں کابل، قندھار اور ہرات شامل ہیں۔ طالبان کی سپریم کورٹ کے مطابق سال کے آخری مہینوں میں ان سزاؤں میں مزید اضافہ دیکھنے میں آیا۔

اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 100 خواتین کو بھی کوڑے مارے گئے اور متعدد سزائیں عوامی مقامات پر دی گئیں۔ بعض واقعات میں ہزاروں افراد کے سامنے سزائیں دی گئیں جن میں بچوں کی موجودگی بھی رپورٹ ہوئی۔ خوست کے ایک اسٹیڈیم میں ایک شخص کو عوام کے سامنے سزائے موت دی گئی۔

انسانی حقوق کے عالمی اداروں نے ان اقدامات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہیں بنیادی آزادیوں کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس طرح کی سزائیں معاشرے میں خوف اور عدم تحفظ کی فضا پیدا کر رہی ہیں۔

دوسری جانب طالبان حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ سزائیں اسلامی قانون کے مطابق دی جا رہی ہیں اور نظام کے خلاف پروپیگنڈا یا اختلاف رائے پر سخت کارروائی ضروری ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button