
(خلیج اردو ) تنزانیہ پہلا عرب ملک ہے جہاں جمہوری حکومت تشکیل کی گئی جو عرب بہار جو 2011 میں رونما ہوا تھا کی وجہ سے ممکن ہوئی مگر معاشی بدخالی کی وجہ سے حکومت سنبھل نہیں رہی ۔
ایک مرتبہ پھر تنزانیہ کی اپوزیشن جماعت نے حکومتی جماعت کے خلاف جمہوری انداز سے معرکہ لڑا اور حکومت ہٹا کر ٹیکنوکریٹک حکومت تشکیل دے دی ہے ۔
حکومت بنانے کے لئے تنزانیہ کے پارلیمنٹ میں ووٹنگ منعقد کی گئی جہاں 134 ووٹ ٹیکنوکریٹک حکومت کے حق میں جبکہ 67 ووٹ اس کے خلاف پڑھے ۔
نئے منتخب ہونے والے وزیر اعظم ہیچیم میچیچی نے کہا کہ نئی حکومت کہ تشکیل ناگزیر تھی کیونکہ ملک میں معاشی بحران پیدا ہوگیا تھا جس پر قابو پانے کے لئے بہترین حکمت عملی تشکیل دی جائے گی ۔
یاد رہے کہ پچھلے سال معاشی قوانین میں تبدیلی سے آزاد پسند اور مذہبی سیاستدانوں میں تفریق بڑھ گئی اور علحدہ ہوگئے جس سے صدر کی پوزیشن کمزور ہوگئی ۔
صدر قیص سعید آزادنہ حثیت دے صدر تنزانیہ منتخب ہوئے اور وہ ریاستی قوانین میں تبدیلی کے خواہشمند ہیں ۔
Source : Gulf News







