
چین میں ایک 17 سالہ نوجوان کو آن لائن شاپنگ پلیٹ فارم کے ریفنڈ سسٹم میں خامی کا فائدہ اٹھا کر بڑے پیمانے پر فراڈ کرنے پر چھ سال قید کی سزا سنا دی گئی ہے۔ نوجوان نے جعلی ریفنڈ درخواستوں کے ذریعے تقریباً 11 ہزار 900 آرڈرز کی رقم وصول کی اور سامان واپس کیے بغیر چار ملین یوان سے زائد رقم ہتھیا لی۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق شنگھائی کی عدالت نے جولائی 2025 میں اس کیس کا فیصلہ سنایا۔ عدالت میں بتایا گیا کہ ملزم، جس کا خاندانی نام لو ہے، نے آن لائن پلیٹ فارم کی اس پالیسی کو استعمال کیا جس کے تحت صارفین ریفنڈ کے لیے کورئیر ٹریکنگ نمبر خود درج کر سکتے تھے۔ اس خامی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے نوجوان نے جعلی ٹریکنگ نمبرز جمع کرائے اور ریفنڈ حاصل کرتا رہا، جبکہ فروخت کنندگان کو سامان کبھی واپس نہیں ملا۔
پولیس کے مطابق اس طریقہ کار کو سمجھنے کے بعد نوجوان نے متعدد اکاؤنٹس بنائے، کاسمیٹکس اور دیگر اشیا آرڈر کیں، ریفنڈ حاصل کیا اور مصنوعات کو سیکنڈ ہینڈ پلیٹ فارمز پر فروخت کر دیا۔ اس طرح اس نے مجموعی طور پر 4.76 ملین یوان مالیت کا سامان حاصل کیا اور تقریباً 4.01 ملین یوان منافع کمایا۔
تحقیقات میں سامنے آیا کہ حاصل کی گئی رقم نوجوان نے مہنگے موبائل فونز، برانڈڈ ملبوسات خریدنے اور دوستوں پر خرچ کرنے میں استعمال کی۔
یہ فراڈ مارچ 2024 میں اس وقت منظرِ عام پر آیا جب ایک آن لائن کاسمیٹکس پلیٹ فارم نے مشکوک ریفنڈ سرگرمی کی نشاندہی کرتے ہوئے پولیس کو اطلاع دی۔ اس کے بعد نوجوان کو گرفتار کر لیا گیا۔ پلیٹ فارم کا نام اور دیگر ذاتی تفصیلات ظاہر نہیں کی گئیں۔
چینی قانون کے تحت بڑے مالی فراڈ پر دس سال یا اس سے زائد قید کی سزا بھی دی جا سکتی ہے، تاہم عدالت نے ملزم کی کم عمری کو مدنظر رکھتے ہوئے سزا میں کمی کی۔
اس واقعے کے بعد چین میں آن لائن ریفنڈ سسٹمز کے غلط استعمال پر ایک بار پھر بحث چھڑ گئی ہے، جسے آن لائن فروخت کنندگان کے لیے بڑھتا ہوا مسئلہ قرار دیا جا رہا ہے۔







