خلیج اردو
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی زیر صدارت کابینہ کا پہلا اجلاس منعقد ہوا، جس میں داخلی و خارجی پالیسیوں سمیت معاشی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی جمعے کو ایک بڑی ڈیل کے لیے امریکہ آ رہے ہیں، اور امریکہ یوکرین سے اپنے مالی وسائل واپس لے گا۔
انہوں نے واضح کیا کہ یوکرین کے لیے سیکیورٹی کی ضمانت امریکہ کے بجائے یورپ فراہم کرے گا۔
صدر ٹرمپ نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کا یوکرین جنگ کے حل کا کوئی ارادہ نہیں۔
چین کے حوالے سے بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ ان کے اچھے تعلقات ہیں، اور وہ چین اور امریکہ کے درمیان دو طرفہ سرمایہ کاری کے فروغ کے خواہاں ہیں۔
معاشی پالیسیوں پر گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے "گولڈ کارڈ” متعارف کرانے کا عندیہ دیا، جس کے ذریعے امریکی شہریت کے حصول کا راستہ ہموار ہوگا اور کمپنیاں غیر ملکی ہنر مند ملازمین کو راغب کر سکیں گی۔
انہوں نے اعلان کیا کہ جلد ہی یورپی یونین پر اضافی ٹیکس عائد کیا جائے گا، جبکہ میکسیکو اور کینیڈا سے درآمدات پر نئے ٹیکس کا اطلاق 2 اپریل سے ہوگا۔
ادھر امریکی کاروباری شخصیت ایلون مسک نے خبردار کیا کہ اگر اخراجات میں کمی نہ کی گئی تو امریکہ دیوالیہ ہو سکتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ٹریلین ڈالر کے بجٹ خسارے کو کم کرنے کے لیے تیزی سے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، صدر ٹرمپ کی معاشی اور خارجہ پالیسیوں کے یہ ابتدائی اعلانات مستقبل میں امریکہ کی عالمی پوزیشن اور اقتصادی استحکام پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔






