عالمی خبریں

گرین لینڈ تنازع: ٹرمپ کی یورپ کے آٹھ ممالک پر 10 فیصد ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی

واشنگٹن: سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ وہ گرین لینڈ کے معاملے پر امریکا کی مخالفت کرنے والے یورپ کے آٹھ ممالک پر فروری سے 10 فیصد درآمدی ٹیرف عائد کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ان ممالک میں ڈنمارک، ناروے، سویڈن، فرانس، جرمنی، برطانیہ، نیدرلینڈز اور فن لینڈ شامل ہیں۔

ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر یکم جون تک گرین لینڈ کی “مکمل اور حتمی خریداری” کا معاہدہ طے نہ پایا تو یہ ٹیرف بڑھا کر 25 فیصد کر دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدام ان ممالک کی جانب سے گرین لینڈ سے متعلق امریکی کوششوں کی مخالفت کے جواب میں ہوگا۔

ماہرین کے مطابق اس دھمکی سے امریکا اور نیٹو اتحادیوں کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ ٹرمپ ماضی میں بھی تجارتی دباؤ کو سفارتی ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے رہے ہیں، تاہم قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے ٹیرف کے نفاذ کا قانونی طریقہ کار واضح نہیں، اگرچہ ممکن ہے کہ اقتصادی ہنگامی اختیارات کا حوالہ دیا جائے۔

ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا کہ برطانیہ، نیدرلینڈز اور فن لینڈ کے حکام کے حالیہ دورۂ گرین لینڈ نے امریکا کے تحفظات میں اضافہ کیا ہے۔ انہوں نے گرین لینڈ کو امریکی میزائل دفاعی نظام کے لیے اسٹریٹجک طور پر اہم قرار دیتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا کہ چین اور روس وہاں اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔

ٹرمپ کے اعلان کے چند گھنٹوں بعد گرین لینڈ کے دارالحکومت نوک میں سینکڑوں افراد نے شدید سرد موسم کے باوجود ریلی نکالی۔ مظاہرین نے خودمختاری کے حق میں نعرے لگائے اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر درج تھا کہ “گرین لینڈ فروخت کے لیے نہیں” اور “ہم اپنا مستقبل خود طے کریں گے”۔ ڈنمارک میں بھی ہزاروں افراد نے احتجاجی مظاہروں میں شرکت کی۔

ادھر امریکا کی کانگریس کے دو جماعتی وفد نے کوپن ہیگن کا دورہ کر کے کشیدگی کم کرنے کی کوشش کی۔ سینیٹر کرس کونز نے کہا کہ سخت بیانات سے تشویش پیدا ہوئی ہے اور امریکا کو اپنے نیٹو اتحادیوں کے ساتھ اعتماد برقرار رکھنا چاہیے۔

دوسری جانب ڈنمارک کے فوجی حکام نے تصدیق کی ہے کہ یورپی اور امریکی افواج گرین لینڈ میں مشترکہ دفاعی مشقیں جاری رکھے ہوئے ہیں، جن کا مقصد کسی سیاسی پیغام کے بجائے ممکنہ روسی خطرات کے خلاف تیاری کو یقینی بنانا ہے۔ حکام کے مطابق گرین لینڈ کے قریب چین یا روس کی کسی فوجی موجودگی کا مشاہدہ نہیں کیا گیا۔

یورپی رہنماؤں نے واضح کیا ہے کہ گرین لینڈ سے متعلق فیصلے ڈنمارک اور گرین لینڈ کے عوام کا حق ہیں۔ ڈنمارک نے اتحادیوں کے تعاون سے گرین لینڈ میں فوجی موجودگی بڑھانے کے منصوبے کا بھی اعلان کیا ہے۔

ٹرمپ نے ایک بار پھر اس بات پر زور دیا کہ امریکا کو گرین لینڈ پر کنٹرول حاصل ہونا چاہیے، ان کے بقول اس کی معدنی دولت اور جغرافیائی محلِ وقوع امریکا کے لیے نہایت اہم ہے۔ تاہم سفارتی سطح پر مذاکرات جاری ہیں اور حالیہ ملاقاتوں کے بعد ایک ورکنگ گروپ کے قیام پر اتفاق کیا گیا ہے، اگرچہ فریقین اس پیش رفت کی تشریح مختلف انداز میں کر رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button