عالمی خبریں

امریکا میں ایچ ون بی ویزہ پر 100,000 ڈالر فیس کے اعلان کے بعد گہما گہمی، یو اے ای سے بڑی تعداد میں مسافر واپس روانہ

خلیج اردو
دبئی: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے غیر ملکی ویزوں پر 100,000 ڈالر داخلہ فیس کے اعلان کے بعد یو اے ای میں مقیم متعدد ایچ ون بی ویزہ ہولڈرز نے ہنگامی طور پر امریکا واپسی شروع کر دی۔ سفری ایجنٹس کے مطابق ہفتے کے روز اعلان کے بعد فضاء میں گھبراہٹ پھیل گئی اور کئی کمپنیوں نے اپنے ملازمین کو ملک سے باہر سفر نہ کرنے کی ہدایت دی، جس کے بعد بیرون ملک موجود افراد جلدی میں واپس لوٹنے لگے۔

امریکی حکام کی وضاحت کے بعد کہ نئی فیس صرف نئے درخواست گزاروں پر لاگو ہو گی نہ کہ موجودہ ویزہ ہولڈرز یا ان کی تجدید پر، صورتحال میں کچھ بہتری آئی ہے۔ تاہم پھر بھی خوف کے باعث کئی مسافر اپنی واپسی کے شیڈول کو آگے لا رہے ہیں۔

نیو ٹریولز اینڈ ٹورازم کے مینیجنگ ڈائریکٹر اویناش ادنانی نے بتایا کہ ہفتے کو طلبہ اور پروفیشنلز کی بڑی تعداد نے امریکا جانے کی بکنگ کروائی۔ تمام امریکا جانے والی پروازیں مکمل طور پر بھری ہوئیں جبکہ زیادہ تر مسافروں نے ابوظہبی کے زاید انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے روانگی کو ترجیح دی کیونکہ یہاں امریکی امیگریشن کی پری کلیئرنس سہولت موجود ہے۔

ایئر ٹریول انٹرپرائزز اینڈ ٹورازم کی جنرل مینیجر رینا فلپ کے مطابق اس اعلان نے ایچ ون بی ویزہ ہولڈرز میں "خوف اور غیر یقینی صورتحال” کو بڑھا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سب سے زیادہ دباؤ بھارت میں ہے جہاں پہلے ہی امریکی ویزہ اپوائنٹمنٹ کے لیے ایک سال انتظار کرنا پڑتا ہے۔

اس دوران سوشل میڈیا پر ویڈیوز وائرل ہوئیں جن میں مسافر ویزہ پالیسی کی تبدیلی کے باعث پرواز سے اترنے کا مطالبہ کر رہے تھے۔

ایچ ون بی ویزہ ہولڈرز کی بڑی تعداد ایمیزون، ٹاٹا کنسلٹنسی سروسز، مائیکروسافٹ، میٹا، ایپل اور گوگل جیسی ٹیک کمپنیوں میں کام کرتی ہے۔ صرف ایمیزون میں جون 2025 کے آخر تک 14,300 سے زائد ایسے ملازمین تھے جبکہ ٹاٹا کنسلٹنسی کے تحت 5,500 سے زیادہ افراد ویزہ اسکیم کے ذریعے ملازم تھے۔

ماہرین کے مطابق پروازوں میں اضافی رش کی وجہ سے ایئر کرایوں میں آئندہ چند دنوں میں 15 سے 20 فیصد اضافہ متوقع ہے۔

 

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button