اسلام آباد:
پاکستان میں گزشتہ چھ برسوں کے دوران غربت کی شرح میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ پلاننگ کمیشن کی جانب سے جاری تازہ اعداد و شمار کے مطابق ملک میں غربت کی سطح 2018-19 میں 21.9 فیصد تھی جو بڑھ کر 2024-25 میں 28.9 فیصد تک جا پہنچی۔
رپورٹ کے مطابق شہری علاقوں میں غربت کی شرح 11 فیصد سے بڑھ کر 17.4 فیصد ہو گئی، جبکہ دیہی علاقوں میں یہ سطح 28.2 فیصد سے بڑھ کر 36.2 فیصد تک پہنچ گئی۔
صوبائی اعداد و شمار کے مطابق پنجاب میں غربت 16.5 فیصد سے بڑھ کر 23.3 فیصد، سندھ میں 24.5 فیصد سے بڑھ کر 32.6 فیصد، خیبر پختونخوا میں 28.7 فیصد سے بڑھ کر 35.3 فیصد جبکہ بلوچستان میں 41.8 فیصد سے بڑھ کر 47 فیصد تک ریکارڈ کی گئی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ غربت میں اضافے کی بڑی وجوہات میں کورونا وبا کے معاشی اثرات، عالمی سطح پر اجناس اور توانائی کی قیمتوں میں اضافہ، ملک میں سیلاب سے انفراسٹرکچر کی تباہی اور لیبر مارکیٹ کو درپیش مشکلات شامل ہیں۔
مالی سال 2024 کے دوران اجناس اور توانائی کی قیمتیں بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں، جس کے باعث افراطِ زر میں اضافہ ہوا اور عام شہریوں کے اخراجات میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔






