عالمی خبریں

واٹس ایپ نے سخت عوامی رد عمل کے بعد ڈیٹا شیئرنگ سے متعلق کی جانے والی تبدیلیوں کو مؤخر کردیا

 

خلیج اردو آن لائن:

سماجی رابطوں کی ایپ واٹس ایپ کی جانب سے حال ہی میں اپنی پرائیویسی پالیسی میں تبدیلیوں کا اندیہ دیا تھا۔ جس کے بعد شدید عوامی رد عمل سامنے آیا اور متعدد صارفین نے واٹس ایپ چھوڑ کر متبادل میسجنگ ایپ استعمال کرنی شروع کر دیں۔

اس عوامی رد عمل کو دیکھتے ہوئے واٹس ایپ نے جمعے کے روز اپنی پرائیویسی پالیسی میں کی جانے والی تبدیلیوں کے اطلاق کو موخر کرنے اعلان کیا ہے۔

نئی پرائیویسی پالیسی سے متعلق عوامی تحفظات کے باعث شدید رد عمل کو دیکھتے ہوئے واٹس ایپ نے پالیسی اپ ڈٰیٹ کرنے کی ڈیڈ لائن کو 8 فروری سے مئی کے مہینہ کر دی ہے۔

اس حوالے سے واٹس ایپ کا کہنا ہے کہ وہ نئی پالیسی اور سیکیورٹی سے متعلق عوامی خدشات اور غلط معلومات کو دور کرنے کے لیے کچھ وقت لے گی اور اس کے بعد پالیسی کو اپ ڈٰیٹ کیا جائے گا۔

واٹس ایپ کی جانب سے حال ہی میں شائع کیے جانے والے ایک بلاگ میں کہا گیا ہےکہ "ہم بہت سارے لوگوں سے سن چکے ہیں کہ ہماری حالیہ اپ ڈیٹ کے بارے میں کتنی کنفیوژن پائی جاتی ہے”۔ واٹس ایپ نے نئی پالیسی کے تحت فیس بک کے ساتھ صارفین کا ڈیٹا شیئر کرنے کے حوالے سےلکھا کہ "اس اپ ڈیٹ سے فیس بک کے ساتھ ڈیٹا شیئر کرنے کی ہماری صلاحیت میں کوئی اضافہ نہیں ہوتا”۔

واٹس ایپ نے پالیسی سے متعلق وضاحت دیتے ہوئے لکھا کہ یہ اپ ٰڈیٹ اس سے متعلق ہےکہ کیسے کاروباری افراد واٹس ایپ کا استعمال کرتے ہوئے صارفین سے بات کرتے ہیں اور یہ ڈیٹا کیسے فیس بک سے شیئر کر سکتے ہیں۔ اور فیس بک اس ڈیٹا کا استعمال کرتے ہوئے ان صارفین کو انکے رجحانات کے مطابق اشتہارات دیکھا سکے۔

واٹس ایپ نے مزید لکھا کہ "ہم آپ کے نجی میسج نہیں دیکھ سکتے اور نا ہی آپ کی کالز سن سکتے ہیں، اور نا ہی فیس بک ایسا کر سکتی ہے۔ نا ہم نا فیس بک اس بات کا ریکارڈ رکھ سکتے ہیں کہ کون کس کو میسج کر رہا ہے اور نہ ہی ہم آپ کی شیئر کی گئی لوکیشن دیکھ سکتےہیں”۔

واٹس ایپ کا کہنا ہےکہ "ہم بزنسز کو یہ سہولت یہ آپش فراہم کرنا چاہتے ہیں کہ وہ فیسبک سے اپنے صارفین کے ساتھ بات چیت کے لیے فیسبک سے ہوسٹنگ سروس حاصل کر سکیں۔ اور جب آپ کسی بزنس سے ایمیل، فون یا واٹس ایپ سے رابطہ کرتے ہیں تو وہ دیکھ سکتا ہے کہ آپ کیا کہ رہے ہیں اور وہ اسی معلومات کو اپنی مارکیٹنگ کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔ جس میں فیس بک پر اشتہارات بھی شامل ہیں”۔

Source: Gulf News

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button