
خلیج اردو
دبئی: دبئی میں مقیم دمّی کئی ماہ تک ٹھیک سے سو نہیں پاتی تھیں۔ ہر رات ران سے پاؤں تک درد پھیل جاتا اور آرام محال ہوجاتا۔ پانچ ماہ تک انہوں نے تکلیف کم کرنے کے لیے تیل، جڑی بوٹیاں، گرم پانی اور درد کش گولیاں استعمال کیں مگر افاقہ نہ ہوا۔ بالآخر سری لنکا واپس جا کر انہیں معلوم ہوا کہ یہ درد ذیابیطس کی سنگین پیچیدگی ’’ڈایابیٹک نیوروپیتھی‘‘ یعنی اعصابی نقصان کا نتیجہ تھا، جو عموماً پاؤں اور ٹانگوں کو متاثر کرتا ہے۔ مسلسل کھڑے رہ کر کام کرنے والی دمّی اپنی خوراک پر توجہ نہیں دے پاتی تھیں اور جو ملتا کھا لیتی تھیں۔
شدید علاج کے چھ ماہ بعد صورتحال قابو میں آئی، مگر ایک سال گزرنے کے باوجود اعصاب کا درد کبھی کبھار انہیں ساکت ہونے پر مجبور کر دیتا ہے۔ نومبر کو یو اے ای میں ذیابیطس سے آگاہی کا مہینہ قرار دیا جاتا ہے، اور یہ وہ موقع ہے جب بیماری، اس کے اثرات اور بچاؤ کو سمجھنا ضروری ہوتا ہے۔ اس سال کا موضوع ہے ’’زیادہ جانیں، زیادہ کریں، اپنی بینائی کا تحفظ کریں‘‘۔ انٹرنیشنل ڈایابیٹک فیڈریشن کے مطابق یو اے ای میں بالغ آبادی میں ذیابیطس کی شرح 20.7 فیصد ہے، جو بے احتیاطی کی صورت میں دل، گردے، آنکھوں اور اعصاب کو نقصان سمیت سنگین پیچیدگیوں کا باعث بن سکتی ہے۔
ذیابیطس کی اقسام
دبئی ہیلتھ اتھارٹی کے مطابق ذیابیطس کی تین اقسام ہیں:
ٹائپ 1 ذیابیطس: جسم انسولین بنانا کم یا بند کر دیتا ہے اور روزانہ انسولین لینا ضروری ہوتا ہے۔ امریکی گلوکار نک جونس 13 سال کی عمر سے اس مرض کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔
ٹائپ 2 ذیابیطس: جسم توانائی کے لیے شکر کو مؤثر طریقے سے استعمال نہیں کر پاتا۔ یہ بڑھتے وزن، کم سرگرمی یا موروثی رجحان سے جڑی ہوئی طرزِ زندگی کی بیماری ہے۔
حمل کے دوران ذیابیطس: دورانِ حمل وقتی طور پر خون میں شکر کی مقدار بڑھتی ہے۔
’’ٹائپ 3 ذیابیطس‘‘ کا غیر رسمی استعمال الزائمر کی بیماری کے لیے ہوتا ہے، جس میں دماغ انسولین کے اثرات قبول نہیں کرتا اور یہ ذہنی صلاحیت میں کمی کا باعث بنتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس سے بچاؤ کے لیے سخت شوگر کنٹرول، سوزش کم کرنے والی خوراک، باقاعدہ ورزش، اچھی نیند، بلڈ پریشر کنٹرول اور دماغی مشقیں مددگار ہیں۔
ڈاکٹر برائن مٹیمریرا کے مطابق سب سے عام ٹائپ 2 ذیابیطس ہے، جس میں ادویات کے ساتھ طرزِ زندگی اور خوراک میں تبدیلی بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔
وہ علامات جو اکثر نظر انداز ہوجاتی ہیں
ڈاکٹر مٹیمریرا کے مطابق ذیابیطس کی ابتدا ہمیشہ واضح علامات سے نہیں ہوتی۔ عام طور پر نظرانداز ہونے والی علامات میں شامل ہیں:
مسلسل تھکاوٹ، وزن میں بغیر وجہ کمی، دھندلا دکھائی دینا، زخم دیر سے بھرنا، ہاتھ پاؤں میں سن ہونا، بار بار انفیکشن، گردن یا بغلوں میں سیاہ گھیرے، زیادہ پیاس اور بار بار پیشاب آنا۔
خون میں شکر قابو رکھنے کے لیے GI کم کرنا
خوراک کا گلیسیمک انڈیکس (GI) کم رکھ کر خون میں شکر کے اتار چڑھاؤ کو روکا جاسکتا ہے۔ غذائی ماہر نور المحمود کے مطابق GI کم کرنے کے آسان طریقے یہ ہیں:
کاربوہائیڈریٹس کے ساتھ پروٹین یا صحت مند چکنائی شامل کریں، چاول یا پاستا کو پکانے، ٹھنڈا کرنے اور دوبارہ گرم کرنے سے ریزسٹنٹ اسٹارچ بڑھتا ہے، سفید آٹے کی جگہ مکمل اناج استعمال کریں، کھانے میں لیموں یا سرکہ شامل کریں، پاستا کو ’ال ڈینٹے‘ پکائیں۔
نور کے مطابق چند صحت مند متبادل یہ ہیں:
سفید چاول کے بجائے باسمتی، براؤن رائس یا بلغور
سفید بریڈ کے بجائے ہول گرین یا ساؤرڈو
جوس کے بجائے مکمل پھل
سافٹ ڈرنکس کے بجائے زیرو شوگر یا اسپارکلنگ واٹر
عام آلو کے بجائے میٹھے یا ٹھنڈے آلو
میٹھے کے بجائے یونانی دہی اور بیریز
ذیابیطس کے مریض جلد موڈی کیوں ہوجاتے ہیں؟
ڈاکٹر مٹیمریرا کے مطابق ذیابیطس میں مزاج کی تبدیلی عام بات ہے۔ اس کی وجوہات میں شامل ہیں:
خون میں شکر کی زیادتی سے چڑچڑاپن اور تھکاوٹ، جبکہ کمی سے بےچینی، غصہ یا اداسی
انسولین کا دماغی ہارمونز پر اثر
روزمرہ بیماری کا ذہنی دباؤ
نیند کی کمی
دائمی سوزش، جو ڈپریشن کا باعث بن سکتی ہے۔
یہ بیماری قابو میں رکھی جاسکتی ہے، بشرطیکہ خوراک، ورزش اور نظم و ضبط کو زندگی کا حصہ بنا لیا جائے۔







