
متحدہ عرب امارات میں سرد موسم کے دوران بھی پانی کی کمی کے خطرات موجود رہتے ہیں۔ ڈاکٹروں کے مطابق سردی میں پیاس کم لگتی ہے لیکن جسم سے پانی کا اخراج بدستور جاری رہتا ہے، اس لیے لوگ بسا اوقات “چھپی ہوئی ڈی ہائیڈریشن” کا شکار ہو جاتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سرد موسم میں خون کی نالیوں کا سکڑاؤ جسم کی حرارت کو محفوظ کرتا ہے، جس سے دماغ کو یہ سگنل ملتا ہے کہ جسم میں پانی مناسب مقدار میں موجود ہے۔ نتیجتاً پیاس محسوس کرنے میں تقریباً 40 فیصد تک کمی آ جاتی ہے، جبکہ اصل میں جسم کو پانی کی ضرورت برقرار رہتی ہے۔ یہ صورتحال خاص طور پر بچوں، بزرگوں اور زیادہ وقت باہر گزارنے والوں کے لیے زیادہ خطرناک ہو سکتی ہے۔
**ڈی ہائیڈریشن کی عام علامات**
خشک ہونٹ اور منہ، گلے کی خراش، جلد کا خشک یا پھٹ جانا، سر درد، چکر آنا، چڑچڑاپن، گہرے رنگ کا پیشاب، پیشاب کی کمی، پٹھوں میں کھنچاؤ، توجہ میں کمی اور تھکن۔ اکثر لوگ ان علامات کو سردی یا مصروفیت کا نتیجہ سمجھ کر پانی کی کمی کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔
**بیماری میں پانی کی ضرورت بڑھ جاتی ہے**
نزلہ، زکام اور بخار کی صورت میں جسم کو مزید پانی درکار ہوتا ہے۔ پانی کی مناسب مقدار بخار میں درجہ حرارت کو متوازن رکھنے، بلغم کو ڈھیلا کرنے اور صحت یابی میں مدد دیتی ہے۔ سردیوں میں بیماری کے دوران اکثر لوگ پانی کم پیتے ہیں جو مزید مسائل پیدا کر سکتا ہے۔
**ہائیڈریٹ رہنے کے عملی مشورے**
پیاس لگنے کا انتظار نہ کریں، وقفے وقفے سے پانی پیتے رہیں
گرم مشروبات جیسے ہربل ٹی، گرم پانی یا سوپ مفید ثابت ہوتے ہیں
پانی والی غذائیں مثلاً سوپ، مالٹے، کھیرا، ٹماٹر اور تربوز شامل کریں
پیشاب کے رنگ پر نظر رکھیں — ہلکا پیلا رنگ مناسب ہائیڈریشن کی علامت ہے
بیماری، ورزش یا ائیرکنڈیشنڈ/ہیٹڈ ماحول میں پانی کی مقدار بڑھا دیں
ڈاکٹروں کے مطابق ہلکی سی پانی کی کمی بھی موڈ، توجہ اور توانائی پر منفی اثر ڈال سکتی ہے، اس لیے پانی کی بوتل ساتھ رکھنا اور دن بھر تھوڑا تھوڑا پانی پینا فائدہ مند عادت ہے۔
**کتنا پانی درکار ہے؟**
بالغ افراد کے لیے سردیوں میں روزانہ 2 سے 3 لیٹر پانی تجویز کیا جاتا ہے، جبکہ بچوں کے لیے ضرورت عمر کے حساب سے مختلف ہے:
4 سے 8 سال: 1 سے 1.2 لیٹر
9 سے 13 سال: 1.5 سے 1.7 لیٹر
14 سے 18 سال: 1.8 سے 2.2 لیٹر
اگر کوئی شخص ورزش کرتا ہے، زیادہ وقت باہر گزارتا ہے، کیفین لیتا ہے یا بیماری سے صحت یاب ہو رہا ہے تو اس کے لیے پانی کی ضرورت مزید بڑھ سکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سردیوں میں پانی کی ضرورت گرمیوں سے بہت کم نہیں ہوتی، اس لیے باقاعدہ ہائیڈریشن ہر عمر کے افراد کے لیے ضروری ہے۔







