ٹریولنگ

خلیجی ممالک کا مشترکہ ویزا اب 2026 میں متوقع، نئی تاریخ کے پیچھے وجوہات سامنے آ گئیں

 

خلیج اردو

دبئی: خلیجی تعاون کونسل (جی سی سی) کے چھ رکن ممالک کے درمیان آزادانہ سفر کی سہولت دینے والا "یونائیٹڈ جی سی سی ویزا” اب 2026 میں متعارف کرایا جائے گا۔ یہ نیا نظام، جسے "جی سی سی گرینڈ ٹور ویزا” بھی کہا جا رہا ہے، ابتدائی طور پر 2025 کے اختتام پر متعارف کرانے کا منصوبہ تھا مگر نئی ٹائم لائن سعودی وزیرِ سیاحت احمد الخاطب نے بحرین میں منعقدہ گلف گیٹ وے انویسٹمنٹ فورم میں اعلان کے دوران واضح کی۔

وزیر نے کہا کہ "یہ ایک تاریخی سنگ میل ہے جو خلیجی ممالک کے درمیان کئی سالہ اشتراکِ عمل کے نتیجے میں حاصل ہوا ہے۔”

اہم وجوہات
ماہرین کے مطابق اس تاخیر کی تین بڑی وجوہات ہیں:

پہلی، سلامتی اور پالیسی ہم آہنگی — چھ خودمختار ریاستوں کے امیگریشن اور سیکیورٹی نظاموں میں مطابقت پیدا کرنا ایک پیچیدہ مرحلہ ثابت ہوا۔ عمان کے وزیرِ سیاحت سالم المحروقی کے مطابق مارچ 2025 تک منصوبہ "تحقیقی مرحلے” میں تھا اور سلامتی، ڈیٹا شیئرنگ اور امیگریشن کنٹرول پر تفصیلی بات چیت جاری تھی۔

دوسری، تکنیکی انضمام — رکن ممالک کے سرحدی اور امیگریشن نظاموں کو ایک مشترکہ ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے تحت جوڑنا ضروری ہے تاکہ مسافروں کے ڈیٹا کا تبادلہ حقیقی وقت میں ممکن ہو۔ جی سی سی سیکرٹری جنرل جاسم محمد البدوای نے جولائی 2025 میں بتایا کہ وزارتِ داخلہ کے پاسپورٹ محکمے جدید تقاضوں کے مطابق مشترکہ نظام پر کام کر رہے ہیں۔

تیسری، تدریجی نفاذ — اب منصوبہ مرحلہ وار متعارف کرایا جائے گا۔ 2025 کے آخر میں طے شدہ پائلٹ مرحلہ منتخب ممالک میں آزمائشی بنیادوں پر شروع کیا جائے گا تاکہ نظام کے مکمل آغاز سے قبل اسے بہتر بنایا جا سکے۔

نیا ویزا کیا فراہم کرے گا
یونائیٹڈ جی سی سی ویزا کے ذریعے سیاح ایک ہی درخواست کے ذریعے تمام چھ ممالک کا سفر کر سکیں گے۔ اس ویزا کے بنیادی مقاصد میں سفری سہولت، کم اخراجات، خلیجی سیاحت کے فروغ اور خطے کو عالمی سیاحتی مرکز کے طور پر ابھارنا شامل ہے۔

ویزا کی متوقع اقسام:
• سنگل کنٹری ویزا: 30 دن کے لیے، لاگت 330 سے 380 درہم
• "گرینڈ ٹور” ویزا: 60 سے 90 دن کے لیے، لاگت 400 سے 480 درہم

فی الحال ہر ملک کے لیے علیحدہ ویزا درکار ہے، تاہم نئے نظام کے نفاذ کے بعد یہ ویزا خلیجی خطے کے لیے سیاحت اور معاشی انضمام کا ایک تاریخی قدم ثابت ہوگا، جو ڈیجیٹل تیار ی اور علاقائی ہم آہنگی کے نئے دور کا آغاز کرے گا۔

 

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button