ٹریولنگ

شینجن ویزا کے لیے "چھوٹے ملک” کا راستہ اپنانے والے یو اے ای کے مسافروں کو انتباہ، درخواستیں مسترد ہونے کا خطرہ

 

خلیج اردو

دبئی: متحدہ عرب امارات کے رہائشیوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ شینجن ویزا حاصل کرنے کے لیے کم معروف یورپی ممالک کے ذریعے درخواست دینے کی کوشش الٹا نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق ایسا کرنے والوں کی ویزا درخواستیں مسترد بھی کی جا سکتی ہیں۔

وی ایف ایس گلوبل کی یو اے ای ریجنل ہیڈ مونا ز بلیموریا نے شینجن ویزا سے متعلق اس عام غلط فہمی کو خطرناک قرار دیا ہے کہ لکسمبرگ، لیختنسٹائن یا مالٹا جیسے چھوٹے ممالک کے ذریعے درخواست دینے سے ویزا جلد مل جاتا ہے۔

ان کا کہنا تھا، "یہ بالکل غلط ہے۔ براہ کرم یہ فیصلہ کریں کہ آپ کہاں جا رہے ہیں اور اسی ملک سے درخواست دیں جہاں آپ کا قیام زیادہ دنوں کا ہے۔ یہ سوچ غلط ہے کہ کسی بھی ملک سے ویزا چل جائے گا۔”

مونا ز بلیموریا نے واضح کیا کہ شینجن قانون کے تحت ہر درخواست گزار کو اسی ملک سے ویزا لینا ہوتا ہے جہاں وہ زیادہ وقت گزارنے والا ہو، اور اس قانون کی سختی سے پابندی کی جاتی ہے۔ خلاف ورزی کی صورت میں درخواست مسترد کی جا سکتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بعض افراد تیز رفتار ویزا پروسیسنگ کے لیے ٹریول ایجنٹس کے مشوروں پر بھروسہ کرتے ہیں، مگر "شینجن قانون کے تحت فاسٹ ٹریک کی کوئی گنجائش نہیں۔ ایسا کوئی شارٹ کٹ نہیں ہے۔”

موسمی رجحانات میں تبدیلی کے حوالے سے مونا ز بلیموریا نے بتایا کہ یو اے ای کے شہری اب صرف گرمیوں میں نہیں بلکہ سردیوں، خزاں اور قبل از گرمیوں کے موسموں میں بھی یورپ کا رخ کر رہے ہیں۔ اس رجحان سے شمالی یورپ، خاص طور پر فن لینڈ جیسے ممالک میں دسمبر کے دوران طلب میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ سیاح ناردرن لائٹس دیکھنے کے خواہاں ہوتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ "گرمیوں میں یورپ بہت مصروف اور مہنگا ہوتا ہے، اسی لیے لوگ اب نسبتاً پرسکون اوقات میں سفر کو ترجیح دے رہے ہیں۔”

دوسری جانب برطانیہ کا ویزا نظام اس لحاظ سے زیادہ پیش گوئی کے قابل اور آسان قرار دیا گیا ہے، جہاں درخواستوں کے لیے وقت اور طریقہ کار نسبتاً شفاف ہے۔

 

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button