تحریر حافظ عبدالماجد
پاکستانی معاشرہ آج جن فکری اور اخلاقی بیماریوں کا شکار ہے ان میں ایک سب سے مہلک بیماری وہ جعلی "حکمت” ہے جو سوشل میڈیا کے ہر کونے میں سرایت کر چکی ہے۔ یوٹیوب، فیس بک، انسٹاگرام، ٹک ٹاک جہاں دیکھیے کوئی نہ کوئی خودساختہ "حکیم” مردانہ کمزوری کے علاج کے نام پر جہالت خوف اور مایوسی بیچ رہا ہے اپنے نسخے بیچنے کیلئے ایسی زبان اور الفاظ کا چناؤ کیا جاتا ہے کہ سننے والا دنگ رہ جاتا ہے اور وہ اپنی فکر کرنے لگتا ہے ۔
یہ کوئی معمولی دھندا نہیں رہا ، آج سوشل میڈیا پر ایک خوف کی معیشت پروان چڑھ چکی ہے جس کی بنیاد نوجوان نسل کے اعتماد کو توڑ کر انہیں ایک ایسی بیماری کا مریض ثابت کرنے پر ہے جو عموماً ہوتی ہی نہیں۔ "اگر آپ نے یہ نسخہ نہ آزمایا تو زندگی برباد شادی سے پہلے یہ علاج لازم، طاقت کے راز ابھی جانیں ان چیختے ہوئے عنوانات کے پیچھے وہ ذہن چھپے ہیں جو نوجوان ذہنوں کو مشکوک کمزور اور خوفزدہ بناتے جا رہے ہیں۔
سوشل میڈیا پر ایسے جعلی حکیم موجود ہیں جو نہ طب جانتے ہیں، نہ نفسِ انسانی کو۔ نہ یہ کسی ادارے سے سند یافتہ ہیں نہ اِن کی زبان پر کوئی ذمہ داری۔ یہ بس ایک کاروباری نفسیات کو جانتے ہیں ڈراؤ مایوس کرو پھر دوا بیچو اصل میں
یہ تجارت جسم کی نہیں ذہن کی ہے یہ علاج نہیں فکری تخریب ہے اور ہمارے ملک کی بدقسمتی یہ ہے انہیں کوئی پوچھنے والا نہیں۔
ہمارے معاشرے کا سب سے بڑا المیہ یہی ہے کہ وہ انسان کو اس کی جسمانی طاقت کے بجائے اس کی نفسیاتی کمزوریوں سے ناپتا ہے جب سوشل میڈیا پر ایک نوجوان دن میں چار ویڈیوز ایسی دیکھتا ہے جن میں اس کی مردانگی اس کی خوداعتمادی اس کی فطری کیفیت کو بیماری قرار دیا جاتا ہو تو سوچیں وہ کیسا جوان ہو گا؟نہ وہ خواب دیکھ پائے گا نہ وہ اعتماد سے زندگی گزارے گا میں اپنی رائے ان کو حکیم نہیں، نسلوں کا قاتل سمجھتا ہوں
سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ویوز کے چکر میں سوشل میڈیا پر نام نہاد حکیموں کی ایسی باتیں سننے کو ملتی ہیں کہ بندہ کانوں کو ہاتھ لگائے،میڈیا رپورٹ کے مطابق بعض حکیم تو پیسوں کی ریل پیل کی بدولت اتنے طاقتور ہوچکے ہیں انہیں ایواڈز سے نوازا جاتا ہے ،سوشل میڈیا پر مشہور ہونے والے ایک حکیم کو حال ہی میں ایک تقریب میں ایوارڈ سے نوازا گیا پتا نہیں اس حکیم کو کن خدمات کے صلہ میں ایوارڈ دیا گیا حالانکہ اس حکیم کی ویڈیوز اس قدر فحش اور بازاری مواد پر مبنی ہیں کہ کوئی ذی شعور شخص اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ بیٹھ کر نہیں دیکھ سکتا۔کیا یہی ہماری "خدمتِ خلق” ہے؟ کیا یہی ہماری ترجیح ہے کہ جو معاشرے کو بگاڑ رہا ہو اسے شاباش دی جائے؟
ایسے افراد کو سراہنا نہ صرف فکری زوال ہے بلکہ ایک پوری نسل کی تباہی میں شرکت کے مترادف ہے قوم کے ذہن بگاڑنے والے ایسے کرداروں کو عزت کی سند دیں گے تو یہ اعزاز نہیں، قومی احساس پر ایک طمانچہ ہے۔
سوشل میڈیا پر پھیلے ہوئے اس گند کو روکنا کس کی زمہ داری ہے حکومت کہاں ہے؟ عدالتیں کہاں ہیں؟ پیمرا اور سائبر کرائم ونگ کہاں ہیں؟ کیا انہیں یہ کھلے عام جہالت بیچتے "طبّی دہشت گرد” دکھائی نہیں دیتے؟
اب وقت آ چکا ہے کہ ہم اس زہر کو زہر ہی کہیں اور اس کے خلاف آواز بلند کریں۔
ہر سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر حکمت کے نام پر دھوکا دینے والوں پر پابندی عائد کی جائے ۔نوجوانوں کو اعتماد تربیت اور حقیقت پسندانہ رہنمائی دی جائے۔
اگر ہم اب بھی خاموش رہے تو یہ جعلی حکیم صرف جسمانی بیماری نہیں نسلوں کی فکری موت بانٹتے رہیں گے نوجوانوں میں نامردی کا خوف پھیلانے والے خوف کے ان کے سوداگروں کو روکنا ہو گا۔حکومتی سطح پر فوری طور پر یہ ضرورت محسوس کی جانی چاہیے کہ نوجوانوں کی اخلاقی تربیت کے لیے ایک جامع اور مربوط پالیسی بنائی جائے صرف تعلیمی اداروں میں نصابی تعلیم دینا کافی نہیں بلکہ ان اداروں کو کردار سازی کے مراکز میں تبدیل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اسکولوں کالجوں اور یونیورسٹیوں میں ایسی تربیت دی جائے جو نوجوانوں کو اعتماد خودداری اور حقیقت پسندی سکھائے۔حکومتی اداروں کو چاہیے کہ وہ میڈیا پر نشر ہونے والے فحش بے ہودہ اور گمراہ کن مواد کی سختی سے نگرانی کریں عوامی سطح پر آگاہی مہمات چلائی جائیں تاکہ نوجوان نسل جعلی حکیموں کے جھوٹے دعوؤں اور خوف پھیلانے والے حربوں کا شکار نہ ہو۔ اگر ہم نے آج سنجیدہ اقدامات نہ اٹھائے تو آنے والی نسلیں جسمانی نہیں بلکہ فکری بانجھ پن کا شکار ہو جائیں گی۔







