
خلیج اردو
اسلام آباد
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی زیر صدارت وزارت داخلہ کے اہم اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ متحدہ عرب امارات، خلیجی ممالک، یورپ اور دیگر ممالک سے ملک بدر کیے گئے پاکستانیوں کے پاکستان پہنچتے ہی پاسپورٹ منسوخ کر دیے جائیں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ ان کے خلاف ایف آئی آر بھی درج کی جائے گی۔
سرکاری ٹی وی چینل پی ٹی وی کے مطابق اسلام آباد میں منعقدہ اجلاس میں یہ طے کیا گیا کہ ملک بدر افراد کا نام پانچ سال کے لیے پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کیا جائے گا، جس کے باعث ان پر بیرون ملک سفر کی پابندی عائد ہو جائے گی۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب خلیجی اور یورپی ممالک کی جانب سے پاکستان کو شکایات موصول ہوئی ہیں کہ بعض پاکستانی شہری میزبان ممالک کے قوانین کی خلاف ورزیوں میں ملوث پائے گئے، جن میں غیر قانونی رہائش اور بھیک مانگنے جیسے جرائم شامل ہیں۔ صرف سعودی عرب سے پانچ ہزار سے زائد پاکستانیوں کو ان وجوہات پر ملک بدر کیا جا چکا ہے۔
وزارت داخلہ نے ان معاملات کی نگرانی کے لیے وفاقی سطح پر ایک کمیٹی بھی تشکیل دے دی ہے، جو ان افراد کے معاملات کا جائزہ لے گی۔
واضح رہے کہ لاکھوں پاکستانی خلیجی ممالک، یورپ، امریکہ، آسٹریلیا، ملائیشیا سمیت کئی ممالک میں مقیم ہیں اور وہاں کام کر رہے ہیں۔ ان میں سے بیشتر قانونی ذرائع سے بیرون ملک گئے ہیں تاہم حالیہ برسوں میں دھوکہ دہی پر مبنی روزگار اسکیموں اور سیاحتی ویزے پر آ کر غیر قانونی طور پر کام تلاش کرنے کے بڑھتے رجحان نے کئی مسائل کو جنم دیا ہے۔
گزشتہ ہفتے متحدہ عرب امارات میں پاکستانی مشنز نے شہریوں کو بیرون ملک ملازمت کے جھوٹے اشتہارات اور فراڈ سے بچنے کی ہدایت کی تھی، جبکہ پاکستان کے سفیر فیصل نیاز ترمذی نے بھی خبردار کیا تھا کہ سیاحتی ویزے پر آ کر کام تلاش کرنے والے افراد نہ صرف قانون شکنی کے مرتکب ہوتے ہیں بلکہ وہ اپنی ساکھ اور مستقبل کو بھی خطرے میں ڈال دیتے ہیں۔






