لائف سٹائل

روبلوکس اور حقیقت کا سامنا: کیا آپ کے بچے کا ڈیجیٹل کھیل کا میدان محفوظ ہے؟

 

خلیج اردو

ابوظہبی میں مقیم کلیئر ہالینڈ اکثر اپنے آٹھ سالہ بیٹے کو آن لائن گیمز کھیلتے ہوئے بڑبڑاتے سنتی تھیں: "سب یہاں لڑ رہے ہیں اور گالیاں دے رہے ہیں۔”

ایک دن اس نے کھیل چھوڑنے سے انکار کر دیا۔ وہ غصے میں تھا کیونکہ کوئی کھلاڑی اسے چیلنج کر رہا تھا اور برا بھلا کہہ رہا تھا۔ اس نے بھی بدزبانی سے جواب دینا شروع کیا، جس پر والدین خوفزدہ ہو گئے۔ ہالینڈ نے فوراً بیٹے کو گیم کھیلنے سے روک دیا، مگر اس کے بعد وہ خاموش اور الگ تھلگ ہو گیا۔

"وہ دوستوں کے فون سے کھیلنے لگا، تب مجھے احساس ہوا کہ ہمیں بیٹھ کر اس مسئلے کو سنجیدگی سے حل کرنا ہوگا، کیونکہ یہ مزید بگڑ رہا تھا،” ہالینڈ نے بتایا۔

کئی گفتگوؤں کے بعد بھی مسئلہ آسانی سے حل نہ ہوا۔ ان کے مطابق آن لائن بدمعاشی کا سب سے خوفناک پہلو یہ ہے کہ آپ اپنے مخالف کو دیکھ نہیں سکتے، نہ اس کی شناخت جان سکتے ہیں۔ "وہ چند جملے کہتے ہیں اور غائب ہو جاتے ہیں۔”

کچھ عرصے بعد بچے نے کھیلنا چھوڑ دیا، اور جب دوبارہ کھیلا تو دوسروں سے بات نہیں کرنا چاہی۔ ہالینڈ کہتی ہیں، "مجھے نہیں معلوم یہ بہترین حل ہے یا نہیں، کیونکہ ان میں سے کئی گیمز مثبت کمیونٹی سپورٹ بھی دیتی ہیں۔ شاید ہم اسے دوبارہ کھیلنے کی اجازت دیں، مگر اس بار ایسی لڑائیوں سے دور رکھیں۔”

ہالینڈ کی یہ الجھن آج کے بیشتر والدین کی عکاسی کرتی ہے — جو یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ اپنے بچوں کی ڈیجیٹل دنیا میں حفاظت اور آزادی کے درمیان لکیر کہاں کھینچی جائے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button