
خلیج اردو
اسلام آباد میں ایس پی عدیل اکبر کی موت سے متعلق 3 رکنی انکوائری کمیٹی نے رپورٹ کو حتمی شکل دے دی ہے۔ ذرائع کے مطابق انکوائری کمیٹی کو ایس پی عدیل اکبر کی خودکشی کے کوئی شواہد نہیں ملے۔
کمیٹی کی سربراہی ڈی آئی جی ہارون جوئیہ نے کی، جبکہ ارکان میں ڈی آئی جی عتیق طاہر اور ڈی آئی جی آپریشنز جواد طارق شامل تھے۔ ذرائع کے مطابق کمیٹی کو ایس پی عدیل اکبر کی پوسٹ مارٹم رپورٹ بھی موصول ہو چکی ہے جس کے مطابق ان کی موت کی وجہ چہرے پر لگنے والی گولی تھی۔
انکوائری کمیٹی نے ایس پی کے وائرلیس آپریٹر، ڈرائیور اور دیگر عملے کے بیانات قلمبند کیے، جبکہ ایک ماہر نفسیات کا بیان بھی ریکارڈ کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق ایس پی عدیل اکبر نے اپنی موت سے قبل اپنے ڈاکٹر سے دو مرتبہ رجوع کیا تھا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ انکوائری کمیٹی آج اپنی رپورٹ آئی جی اسلام آباد علی ناصر رضوی کو پیش کرے گی، جو اپنی سفارشات کے ساتھ یہ رپورٹ وزیر داخلہ محسن نقوی کو ارسال کریں گے۔






