
ا
خلیج اردو
یروشلم: اسرائیلی فوج کی اعلیٰ قانونی افسر میجر جنرل یفات تومر یروشلمی ایک غیر معمولی تنازع کے مرکز میں ہیں جس نے ملک کی عسکری اور سیاسی قیادت کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ گزشتہ ہفتے انہوں نے اچانک استعفیٰ دیا، بعد ازاں لاپتہ ہو گئیں، اور چند گھنٹے بعد تل ابیب کے ساحل سے ملنے کے بعد انہیں گرفتار کر لیا گیا۔ اب وہ فراڈ، بدعنوانی اور عدالتی کارروائی میں رکاوٹ ڈالنے کے الزامات کے تحت خواتین جیل میں قید ہیں۔
یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب یروشلمی نے ایک ویڈیو منظر عام پر لائی جس میں اسرائیلی فوجیوں کو ایک فلسطینی قیدی پر جنسی تشدد کرتے دکھایا گیا تھا۔ ویڈیو کے مطابق یہ واقعہ 5 جولائی 2024 کو صدی تیمن (Sde Teiman) فوجی جیل میں پیش آیا۔ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ فوجیوں نے ڈھالوں سے ایک جگہ گھیر کر قیدی کو وہاں لے جا کر زیادتی کا نشانہ بنایا۔
میڈیکل رپورٹس کے مطابق قیدی کو چاقو سے شدید زخم پہنچائے گئے، اس کے پیٹ اور سینے میں چوٹیں آئیں، پسلیاں ٹوٹ گئیں، اور اسے جان لیوا حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا۔ آپریشن کے بعد قیدی کو دوبارہ اسی فوجی جیل واپس بھیج دیا گیا۔
تومر یروشلمی نے استعفیٰ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے یہ شواہد اس لیے ظاہر کیے تاکہ یہ تاثر ختم ہو کہ فوج اپنی ہی صفوں کے خلاف غیر منصفانہ کارروائی کر رہی ہے۔ تاہم ان کے اقدام پر سخت ردعمل سامنے آیا، اور حکومت کے حامی حلقوں نے ان پر غداری اور خودساختہ بحران پیدا کرنے کے الزامات عائد کیے۔
ان کے استعفیٰ کے بعد جب وہ لاپتہ ہو گئیں تو ان کی گاڑی ساحل کے قریب ملی اور خدشہ ظاہر کیا گیا کہ انہوں نے خودکشی کر لی ہے۔ فوج نے ڈرونز کی مدد سے تلاش شروع کی، اور وہ زندہ حالت میں ساحل سے برآمد ہوئیں۔ مگر ان کے سامنے آتے ہی سوشل میڈیا پر ان کے خلاف مزید نفرت انگیز مہم شروع ہو گئی۔
عدالت نے ان کی حراست بدھ تک بڑھا دی ہے۔ سابق چیف ملٹری پراسیکیوٹر کرنل ماتان سولومیش کو بھی اس کیس میں گرفتار کیا گیا ہے۔
اس معاملے نے اسرائیل میں پہلے سے جاری سیاسی و سماجی تقسیم کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ واقعہ یاد دلاتا ہے کہ ملک 1995 میں سابق وزیراعظم اسحاق رابین کے قتل جیسے داخلی انتشار کے دہانے پر دوبارہ جا رہا ہے۔







