عالمی خبریں

صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے امریکی تاریخ کے طویل ترین شٹ ڈاؤن کے خاتمے کے بل پر دستخط کر دیے

واشنگٹن: صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے امریکی تاریخ کے سب سے طویل حکومتی شٹ ڈاؤن کے خاتمے کے لیے منظور شدہ بل پر دستخط کر دیے، جس کے ساتھ ہی تقریباً ڈیڑھ ماہ سے جزوی طور پر بند وفاقی حکومت کی بحالی کا عمل شروع ہوگیا۔

ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ سے دو جماعتی حمایت کے ساتھ منظور ہونے والے اس بل کے تحت حکومت کو 30 جنوری 2026 تک فنڈز فراہم کیے جائیں گے۔ اگر اس مدت کے دوران نیا بجٹ منظور نہ ہوا تو ایک اور شٹ ڈاؤن کا خدشہ برقرار رہے گا۔

صدر کے دستخط کے بعد تمام وفاقی اداروں کو دوبارہ کھولنے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔ نیشنل پارکس، میوزیمز، وفاقی دفاتر اور دیگر غیر ضروری خدمات جو شٹ ڈاؤن کے باعث بند تھیں، دوبارہ فعال ہونا شروع ہوگئی ہیں۔

تقریباً 14 لاکھ وفاقی ملازمین، جنہیں بغیر تنخواہ کے گھروں میں رہنے پر مجبور ہونا پڑا، اب اپنی ذمہ داریاں سنبھالنے کے لیے واپس دفاتر پہنچ رہے ہیں۔ قانون کے مطابق، انہیں شٹ ڈاؤن کے دوران کی تمام تنخواہیں واپس دی جائیں گی۔

اس دوران امریکی معیشت کو اربوں ڈالر کا نقصان ہوا۔ ایوی ایشن انڈسٹری سب سے زیادہ متاثر ہوئی، جہاں سیکورٹی عملے کی کمی اور کنٹرول ٹاور اسٹاف کی عدم دستیابی کے باعث ہزاروں پروازیں تاخیر یا منسوخی کا شکار ہوئیں۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس شٹ ڈاؤن نے امریکی معیشت کے اعتماد کو جھٹکا دیا ہے، جبکہ عوامی خدمات کی کارکردگی پر سوالات کھڑے کیے ہیں۔ ماہرین کے مطابق، اس تنازع نے واشنگٹن میں سیاسی تقسیم کی گہرائی کو ایک بار پھر نمایاں کر دیا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق، صدر ٹرمپ کی انتظامیہ اور اپوزیشن کے درمیان بجٹ کے معاملات پر اختلافات بدستور برقرار ہیں، خاص طور پر سماجی بہبود اور دفاعی اخراجات کے حوالے سے۔ اگر یہ اختلافات برقرار رہے تو مستقبل میں ایک اور حکومتی بحران پیدا ہوسکتا ہے۔

سرکاری اندازوں کے مطابق، حکومت کی بندش کے دوران لاکھوں شہری متاثر ہوئے، جبکہ چھوٹے کاروباروں کو قرضوں اور وفاقی اجازت ناموں کی تاخیر کے باعث شدید مشکلات کا سامنا رہا۔

صدر ٹرمپ نے بل پر دستخط کے بعد اپنے بیان میں کہا کہ "یہ امریکی عوام کی خدمت کے تسلسل کو یقینی بنانے کی ایک اہم پیش رفت ہے۔ ہم اپنی قوم کے مفاد میں ایک مضبوط بجٹ اور پائیدار ترقی کے لیے کام جاری رکھیں گے۔”

صدر نے مزید کہا کہ "میں کانگریس کے دونوں ایوانوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے بالآخر سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر عوامی مفاد کو ترجیح دی۔”

سیاسی مبصرین کے مطابق، اس اقدام سے وقتی طور پر بحران ختم ہوگیا ہے لیکن واشنگٹن میں سیاسی تناؤ بدستور برقرار ہے۔

 

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button