پاکستانی خبریں

پاک فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو توسیع یافتہ اختیارات حاصل، 27ویں آئینی ترمیم منظور

خلیج اردو
اسلام آباد:پاکستان کی پارلیمنٹ نے آئین کی 27ویں ترمیم کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت ملک کی عسکری قیادت، عدلیہ اور وفاقی مالیاتی نظام میں اہم تبدیلیاں متعارف کرائی گئی ہیں۔ قومی اسمبلی نے بدھ کے روز اس بل کی منظوری دی، جبکہ سینیٹ نے اسے پیر کو منظور کیا تھا۔ بدھ ہی کے روز صدرِ پاکستان آصف علی زرداری نے اس پر دستخط کر دیے، جس کے بعد یہ قانون بن گیا۔

ترمیم کے تحت آرمی چیف کو تمام مسلح افواج کا سربراہ قرار دیا گیا ہے، وفاقی آئینی عدالت کے قیام کی منظوری دی گئی ہے، اور وفاقی محصولات کی تقسیم و عدالتی تقرریوں کے طریقہ کار میں رد و بدل کیا گیا ہے۔

فوجی کمانڈ میں تبدیلی
27ویں ترمیم کے تحت چیف آف ڈیفنس فورسز (سی ڈی ایف) کا نیا عہدہ تخلیق کیا گیا ہے، جو موجودہ آرمی چیف فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کے پاس ہوگا۔

اس نئے نظام کے مطابق:

  • جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی (سی جے سی ایس سی) کا عہدہ ختم کر دیا گیا ہے۔
  • آرمی چیف بطور چیف آف ڈیفنس فورسز فوج، بحریہ اور فضائیہ تینوں کی قیادت کریں گے۔
  • سی ڈی ایف اپنے عہدے، مراعات اور وردی کو تاحیات برقرار رکھ سکیں گے۔
  • مدتِ ملازمت مکمل ہونے کے بعد انہیں قانونی استثنیٰ حاصل ہوگا۔

یوں آرمی چیف کو پاکستان کی مسلح افواج کا آئینی طور پر تسلیم شدہ سربراہ قرار دے دیا گیا ہے۔

عدلیہ کی ازسرنو تشکیل
ترمیم کے مطابق ایک نئی وفاقی آئینی عدالت (Federal Constitutional Court) قائم کی جائے گی جو ان معاملات کو دیکھے گی جو پہلے سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار میں آتے تھے۔
اس عدالت کے ججز حکومت نامزد کرے گی، جبکہ سپریم کورٹ کا آئینی مقدمات میں کردار محدود کر دیا جائے گا اور نگرانی کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل ہوگا۔

دیگر نکات
ترمیم کے تحت آئین کے آرٹیکل 243 میں تبدیلی کی گئی ہے تاکہ نئی عسکری کمانڈ کے ڈھانچے کو آئینی حیثیت دی جا سکے۔
مزید برآں، عدالتی تبادلوں، اعلیٰ فوجی عہدوں کی تقرریوں اور این ایف سی ایوارڈ (وفاقی محصولات کی تقسیم کا نظام) سے متعلق دفعات میں بھی تبدیلیاں شامل ہیں۔

 

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button