
خلیج اردو
یو اے ای اور عالمی مارکیٹ میں سونا ریکارڈ سطح سے نیچے آگیا ہے، تاہم ماہرین کے مطابق یہ کمی عارضی ہے اور قیمتوں میں آئندہ ایک اور بڑا اضافہ متوقع ہے۔ گزشتہ ماہ سونے کی قیمت 4,500 ڈالر فی اونس کی بلند ترین سطح تک پہنچی تھی لیکن منافع کے حصول کے باعث قیمتوں میں کمی دیکھنے میں آئی۔ ہفتہ وار اختتام پر عالمی مارکیٹ میں قیمت 4,080.78 ڈالر رہی جو 2.62 فیصد کی کمی ہے، جبکہ یو اے ای میں 24 کیرٹ 492.25 درہم اور 22 کیرٹ 455.5 درہم فی گرام میں ٹریڈ ہو رہا تھا۔
CPT کے ماہر امیر بوسیتا کے مطابق سونے کی قیمت ممکنہ طور پر پہلے 3,700 سے 3,800 ڈالر تک نیچے جا سکتی ہے، جس کے بعد مارکیٹ میں تیزی کا نیا سلسلہ شروع ہوگا اور 4,500 ڈالر کی سطح دوبارہ دیکھی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر مارکیٹ پر اضافی دباؤ پڑا تو قیمتیں 4,900 ڈالر تک بھی پہنچ سکتی ہیں۔
XtremeMarkets کی ماہر کومل پریت کور نے بتایا کہ حالیہ کمی کے باوجود سونے کا مجموعی رجحان اب بھی تیزی کا ہے اور وہ توقع رکھتی ہیں کہ 2026 اور 2027 میں قیمت 5,000 ڈالر تک بھی جا سکتی ہے، جس کی وجہ امریکی ٹیرف، چین سمیت مختلف ممالک کے بڑھتے ہوئے سونے کے ذخائر اور عالمی معاشی حالات ہیں۔
FxPro کے چیف مارکیٹ اینالسٹ الیکس کپٹسیکی وچ نے کہا کہ امریکی ڈالر کی کمزوری اور فیڈرل ریزرو کی جانب سے ممکنہ اثاثہ خریداری کے اشاروں نے گزشتہ ہفتے سونے کو سہارا دیا تھا لیکن مارکیٹ اب یک طرفہ نہیں رہی۔ ان کے مطابق رواں سال سونا 60 فیصد بڑھ چکا ہے اور 1979 کے بعد تاریخ کی دوسری سب سے بڑی سالانہ بڑھت کی جانب گامزن ہے، جبکہ عالمی شرح سود میں کمی اور مرکزی بینکوں کی خریداری بھی سونے کے لیے مددگار ہے۔
تاہم بعض ماہرین کے مطابق بازار میں یہ تاثر بڑھ رہا ہے کہ سونے نے اپنی حد پوری کرلی ہے اور گزشتہ ماہ کے اختتام پر ہونے والی بڑی فروخت بیئرز کی طاقت کا اظہار ہے۔ اگر دسمبر میں فیڈ ریٹ کٹ کے امکانات مزید کم ہوئے تو ڈالر مضبوط اور سونا مزید نیچے جا سکتا ہے، لیکن اگر امریکی معاشی ڈیٹا اچانک خراب ہوا تو ابتدائی طور پر سونا اوپر جا سکتا ہے اور بعد میں تیزی سے نیچے آسکتا ہے۔







