
خلیج اردو
اسلام آباد: اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس محمد آصف کے بیٹے کی گاڑی کی ٹکر سے دو خواتین جاں بحق ہوئیں۔ پولیس نے ملزم ابو ذر کو گرفتار کرکے مقامی عدالت میں پیش کردیا۔ عدالت نے ملزم کا چار روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرتے ہوئے اسے پولیس کے حوالے کر دیا۔
خلیج اردو: حادثہ ہفتے کے روز ایران ایونیو پر پیش آیا تھا۔ ٹیوٹا لینڈ کروزر گاڑی کا نمبر اے وائی ای 379 تھا۔ اس حادثے میں جان بحق ہونے والی خواتین کی شناخت ثمرین حسین اور تابندہ بتول کے ناموں سے ہوئی۔ یہ مقدمہ ثمرین کے بھائی عدنان کی مدعیت میں درج کیا گیا تھا۔ عدالت نے پولیس کو ہدایت کی ہے کہ وہ ریمانڈ کے دوران تفتیش مکمل کریں تاکہ واقعے کی تمام تفصیلات سامنے آ سکیں۔
حادثے ہفتے کی شب رات سوا ایک سے ڈیڑھ بجے کے درمیان پیش ہوا۔ یہ بات ہمیں مرنے والی لڑکی کے بھائی کے بیان سے معلوم ہوئی جن کا کہنا ہے کہ ایک بج کر 10 منٹ پر اُن کی بہن روانہ ہوئی۔ پھر پونے دو بجے بہن کے موبائل نمبر پر فون کیا تو پولیس اہلکار نے بتایا کہ حادثہ ہوا ہے اور پمز ہسپتال میں ہیں۔
مجسٹریٹ کے سامنے جسمانی ریمانڈ کے لیے پیش کرتے ہوئے پولیس کی درخواست میں لکھا ہے کہ ملزم کو صبح 5 بجے گرفتار کیا گیا۔ پولیس کے مطابق ملزم نے بتایا کہ حادثے کے وقت وہ سنیپ چیٹ پر ویڈیو بنا رہا تھا۔
پولیس ملزم سے فون نہیں لے سکی۔ ملزم حادثے کے بعد کہاں تھا؟ فون کہاں گیا؟ پولیس نے حادثے کے بعد صبح پانچ بجے تک کیا کیا، معلوم نہ ہو۔






