
خلیج اردو
بھارتی روپیہ امریکی ڈالر اور اماراتی درہم کے مقابلے میں ریکارڈ کم سطح پر پہنچ گیا ہے۔ روپیہ 24.6 درہم اور 90.4 ڈالر تک گر گیا، جس نے یو اے ای میں گروسری مصنوعات کی قیمتوں کے حوالے سے نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ اگرچہ کمزور روپیہ کچھ اشیا کو نسبتاً سستا بنا سکتا ہے، لیکن ماہرین کے مطابق بھارت میں بڑھتی ہوئی پیداواری اور ٹرانسپورٹ لاگت اس فائدے کو کافی حد تک زائل کر دیتی ہے۔
یونین کوآپ کے ڈائریکٹر کمیونٹی ریلیشنز شعیب الحمادی نے بتایا کہ کمزور روپیہ درآمدات میں اضافے کا موقع فراہم کرتا ہے کیونکہ بھارتی مصنوعات مزید مسابقتی ہو جاتی ہیں۔ ان کے مطابق گزشتہ چند ماہ میں کچھ اشیا کی قیمتوں میں 10 فیصد تک کمی بھی دیکھی گئی ہے، خاص طور پر پیاز جیسی تازہ سبزیوں میں، اور یہ کمی جلد صارفین کی اشیا تک بھی پہنچ سکتی ہے۔
بھارت یو اے ای کا بڑا تجارتی شراکت دار ہے اور 2025 کی پہلی ششماہی میں دونوں ممالک کا غیر تیل باہمی تجارت 38 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔ سیپا معاہدے کے بعد چاول، سبزیاں، پھل، ٹیکسٹائل، زیورات اور دیگر صارفین کی مصنوعات کی بڑی مقدار بھارت سے یو اے ای آتی ہے۔
تاہم ال عادل ٹریڈنگ کے چیئرمین ڈاکٹر دھننجے داتار کے مطابق معاملہ اتنا سیدھا نہیں۔ ان کے مطابق بھارت میں خام مال، لیبر، فیول، پیکجنگ اور ٹرانسپورٹ کی لاگت میں تیز اضافہ ہوا ہے، جس کی وجہ سے کمزور روپیہ ملنے والا فائدہ بھی مہنگی لاگت کے سامنے کم پڑ جاتا ہے۔ اسی وجہ سے ضروری غذائی اشیا کی مجموعی قیمتیں کم ہونے کے بجائے بعض مواقع پر بڑھ بھی جاتی ہیں۔
ال مایہ گروپ کے گروپ ڈائریکٹر کمل وچانی نے بھی بتایا کہ کمزور روپیہ درآمد کنندگان کے لیے مخلوط اثر رکھتا ہے۔ اگرچہ کچھ مصنوعات کی لاگت کم ہوتی ہے، لیکن سپلائرز کی قیمتوں، خام مال کی لاگت اور عالمی طلب کے اثرات فیصلہ کن ہوتے ہیں۔ اس لیے قیمتوں میں کمی و بیشی کا براہِ راست تعلق صرف ایکسچینج ریٹ سے نہیں ہوتا۔ ان کے مطابق 3 سے 7 فیصد تک معمولی ردوبدل دیکھا گیا ہے، جو زیادہ تر پیداواری اخراجات سے منسلک ہے۔
ڈاکٹر داتار کا کہنا ہے کہ دالیں، آٹا، مصالحے اور روزمرہ کے ایف ایم سی جی آئٹمز مسلسل مہنگائی کا شکار ہیں کیونکہ بھارت میں ان کی پیداوار اور لاجسٹکس کے اخراجات بڑھ چکے ہیں۔ اگرچہ ایکسچینج ریٹ کچھ ریلیف دیتا ہے، لیکن مینوفیکچرنگ لاگت اور دیگر چارجز کے باعث قیمتوں میں اضافہ اکثر ناگزیر ہو جاتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ خاص طور پر قیمتی مصالحے، خوردنی تیل، برانڈڈ فوڈ آئٹمز، گھی اور ریڈی ٹو ایٹ مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا امکان رکھتی ہیں۔
مجموعی طور پر ماہرین کے مطابق روپیہ کی گراوٹ یو اے ای میں کچھ اشیا کی قیمتیں ضرور کم کر سکتی ہے، لیکن بھارت کے اندرونی اخراجات بڑھنے سے یہ فائدہ محدود رہ جاتا ہے، اور قیمتوں میں نمایاں کمی کی بجائے صرف معمولی اتار چڑھاؤ کی توقع کی جا سکتی ہے۔







