عالمی خبریں

ٹرمپ کی ایران کو سخت وارننگ: "اگر مظاہرین کو پھانسی دی گئی تو بہت سخت کارروائی ہوگی

 

 

واشنگٹن / تہران: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایرانی حکام مظاہرین کو پھانسی دینے کے اپنے اعلان پر عمل کرتے ہیں تو امریکہ "بہت سخت کارروائی” کرے گا۔ ایران نے اس بیان کو مسترد کرتے ہوئے اسے "فوجی مداخلت کا بہانہ” قرار دیا ہے۔

ایران میں حالیہ احتجاجی تحریک کے خلاف کریک ڈاؤن پر عالمی سطح پر شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔ حقوقِ انسانی کی ایک تنظیم کے مطابق مظاہروں کے دوران اموات کی تعداد ہزاروں تک پہنچنے کا خدشہ ہے، جس نے ایران کی مذہبی قیادت کے لیے ایک بڑا چیلنج پیدا کر دیا ہے۔

ایران کے اقوامِ متحدہ مشن نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر جاری بیان میں کہا کہ امریکہ کی ایران مخالف پالیسی "رجیم چینج” پر مبنی ہے اور پابندیوں، دھمکیوں اور انتشار کو فوجی مداخلت کے لیے بہانہ بنایا جا رہا ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ملک میں صورتِ حال پر دوبارہ قابو پا لیا گیا ہے، اگرچہ کئی شہروں میں حالیہ دنوں میں بڑے پیمانے پر مظاہرے ہوئے۔

حقوقِ انسانی کی تنظیموں نے الزام عائد کیا ہے کہ ایرانی فورسز نے مظاہرین پر براہِ راست فائرنگ کی اور انٹرنیٹ بلیک آؤٹ کے ذریعے حقیقی ہلاکتوں کا حجم چھپانے کی کوشش کی جا رہی ہے، جو پانچ دن سے زائد عرصے سے جاری ہے۔

ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں کہا کہ اگر ایران نے مظاہرین کو پھانسی دینا شروع کی تو امریکہ "بہت سخت اقدام” کرے گا۔ ایرانی استغاثہ نے اعلان کیا ہے کہ گرفتار کچھ افراد پر "محاربہ” یعنی خدا کے خلاف جنگ جیسے سنگین الزامات عائد کیے جائیں گے، جن کی سزا موت تک ہو سکتی ہے۔

ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں ایرانی عوام کو احتجاج جاری رکھنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ایرانی حکام کے ساتھ تمام ملاقاتیں اس وقت تک منسوخ کر دی ہیں جب تک "بلا جواز ہلاکتیں بند نہیں ہوتیں”۔ تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ وہ کس نوعیت کی مدد کی بات کر رہے ہیں۔

دریں اثنا، یورپی ملکوں نے بھی احتجاجی کریک ڈاؤن پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ فرانس، جرمنی، برطانیہ اور یورپی یونین نے ایرانی سفیروں کو طلب کر کے ہلاکتوں پر سخت ردعمل ظاہر کیا۔ یورپی یونین کی سربراہ ارسلا فان ڈیر لاین نے کہا کہ ایران میں بڑھتی ہوئی اموات "خوفناک” ہیں اور ذمہ داروں کے خلاف مزید پابندیوں کا اعلان کیا جائے گا۔

ناروے میں قائم ایران ہیومن رائٹس تنظیم نے 734 ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے، تاہم تنظیم کے مطابق اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے، کیونکہ اعداد و شمار محدود اسپتالوں اور صوبوں سے مل رہے ہیں۔ کچھ گرفتار مظاہرین کے لیے سزائے موت کے فیصلے بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔

ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق سکیورٹی فورسز کے بھی متعدد اہلکار ہلاک ہوئے ہیں، اور ان کی نمازِ جنازہ کے اجتماعات حکومت کے حق میں بڑے مظاہروں کی شکل اختیار کر گئے ہیں۔ بدھ کے روز تہران میں "شہدا” کے لیے بڑے جنازے کا اہتمام بھی کیا جائے گا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ احتجاج ایران کی مذہبی حکومت کے لیے ایک سنگین چیلنج ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ فوری تبدیلی کا اندازہ لگانا قبل از وقت ہوگا، کیونکہ حکومت کے پاس بدستور طاقت ور ادارے، خصوصاً پاسدارانِ انقلاب، موجود ہیں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button