
خلیج اردو
پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق چیئرمین نجم سیٹھی نے کہا ہے کہ بھارت کے خلاف ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میچ کے بائیکاٹ پر آئی سی سی اور پی سی بی کے درمیان فوری حل کی توقع نہیں۔ ان کے مطابق کرکٹ میں اکثر میدان سے باہر ہونے والے فیصلے کھیل سے زیادہ شور مچا دیتے ہیں۔
نجم سیٹھی نے خلیج ٹائمز کو خصوصی انٹرویو میں کہا، "یہ معاملہ محض کرکٹ کا نہیں، بلکہ اصولوں اور انصاف کا ہے۔ بنگلہ دیش کے ساتھ جو ہوا، وہ ناانصافی ہے اور پاکستان اسی پر مؤقف لے رہا ہے۔”
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کا بیان دراصل وہی مؤقف دہرانا ہے جو موجودہ پی سی بی چیئرمین محسن نقوی آئی سی سی اجلاس میں پیش کر چکے ہیں۔ "پاکستان اور بنگلہ دیش ایک طرف ہیں اور باقی سب دوسری طرف، کیونکہ عالمی کرکٹ درحقیقت بی سی سی آئی چلاتی ہے۔”
نجم سیٹھی کے مطابق پس پردہ رابطے ضرور ہو رہے ہیں، "غیر رسمی اور خفیہ بات چیت چل رہی ہے، آئی سی سی پر دباؤ ہے، مگر پاکستان اپنا مؤقف واضح کر چکا ہے۔”
بھارت پاکستان میچ سے ہونے والی ممکنہ آمدن پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ "ایک میچ تقریباً 40 کروڑ ڈالر پیدا کرتا ہے، اسی لیے دباؤ بہت زیادہ ہے۔”
انہوں نے ماضی کا ایک واقعہ بھی یاد دلایا جب 2015 میں بی سی سی آئی نے ممبئی بلا کر ملاقات سے انکار کر دیا۔ "ہمیں ہوٹل میں بٹھا کر واپس ایئرپورٹ بھیج دیا گیا، نہ چائے، نہ ملاقات۔ ہم پاکستان میں مکمل طور پر بدنام ہو گئے۔”
نجم سیٹھی نے کہا کہ بعد ازاں پی سی بی نے قانونی جنگ لڑی مگر عدالت نے بھارتی مؤقف کو حکومت کے فیصلے کی بنیاد پر قبول کر لیا۔ "عدالت نے کہا، اگر حکومت نے منع کیا ہے تو ثبوت کی ضرورت نہیں۔”
انہوں نے کہا کہ آج پاکستان بھی اسی فیصلے کی بنیاد پر کہہ رہا ہے کہ "اگر حکومت نے منع کیا ہے تو پھر کھیل نہیں ہو سکتا۔”
آئی سی سی پر تنقید کرتے ہوئے سابق چیئرمین کا کہنا تھا، "پیسہ سب سے بڑا عنصر ہے، بگ تھری سب کچھ لے جاتی ہیں، اصول اور خودمختاری پیچھے رہ جاتے ہیں۔”
آخر میں انہوں نے خبردار کیا کہ کرکٹ کے اولمپکس میں داخلے کے موقع پر سیاست زدہ آئی سی سی ایک بڑا خطرہ بن سکتی ہے۔







