متحدہ عرب امارات

رمضان میں قیمتیں بڑھانے والوں کو ایک لاکھ درہم تک جرمانہ، یو اے ای کا انتباہ

خلیج اردو
متحدہ عرب امارات کی وزارتِ معیشت و سیاحت نے خبردار کیا ہے کہ رمضان المبارک کے دوران قیمتیں بڑھانے والے ریٹیلرز پر 100 ہزار درہم تک جرمانہ عائد کیا جائے گا۔

وزیرِ معیشت عبداللہ بن طوق المری نے میڈیا بریفنگ میں کہا کہ بعض دکاندار سپلائرز اور اشیا سے متعلق غلط معلومات فراہم کر کے قانون سے بچنے اور قیمتیں بڑھانے کی کوشش کرتے ہیں، تاہم ایسی خلاف ورزیوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

خلاف ورزی کی نوعیت کے مطابق تحریری وارننگ، مہلت دے کر اصلاح کا موقع، 500 درہم سے 100 ہزار درہم تک جرمانہ یا عارضی طور پر دکان کی بندش جیسے اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔ سنگین یا بار بار خلاف ورزی کی صورت میں مزید سخت کارروائی بھی ممکن ہے۔

جنوری 2025 میں متعارف کرائی گئی نئی پرائسنگ پالیسی کے تحت صارفین نو بنیادی اشیا — انڈے، مرغی، کوکنگ آئل، چینی، ڈیری مصنوعات، دالیں، روٹی، گندم اور چاول — کی قیمتوں میں اضافے پر شکایت درج کرا سکتے ہیں، جبکہ ریٹیلرز کو قیمت بڑھانے کے لیے پیشگی منظوری لینا ہوگی۔ نئی درخواست آخری منظوری کے چھ ماہ بعد ہی دی جا سکے گی تاکہ نظام کا غلط استعمال نہ ہو۔

وزارت کے مطابق 2025 میں قیمتوں سے متعلق 3,167 شکایات اور 7,702 خلاف ورزیاں ریکارڈ کی گئیں۔ 93.9 فیصد شکایات اوسطاً چار دن میں نمٹا دی گئیں۔

گزشتہ سال ملک بھر کی بلدیات کے تعاون سے 1,55,218 انسپکشن دورے کیے گئے، جن میں قیمتوں کے لیبل، اشیا کے معیار، تجارتی دھوکا دہی اور ٹریڈ مارک کی خلاف ورزیوں کی نگرانی کی گئی۔

وزارت کا ڈیجیٹل پرائس مانیٹرنگ سسٹم 627 بڑے ریٹیل آؤٹ لیٹس سے منسلک ہے، جو ملک میں ضروری اشیا کی تجارت کے 90 فیصد سے زائد حجم کی نمائندگی کرتے ہیں۔ حکام کے مطابق رمضان کے دوران قیمتوں کے استحکام کو یقینی بنانے میں یہ نظام کلیدی کردار ادا کرے گا۔

حکام کا کہنا ہے کہ رمضان بھر معائنوں کا سلسلہ جاری رہے گا تاکہ عوام کو بنیادی اشیا مناسب قیمت پر دستیاب رہیں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button