
خلیج اردو
سعودی عرب کی سپریم کورٹ نے مملکت بھر کے مسلمانوں سے منگل 17 فروری کی شام رمضان المبارک کا چاند دیکھنے کی اپیل کر دی۔
سپریم کورٹ کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ جو بھی شخص رمضان کا چاند دیکھے خواہ آنکھ سے یا دوربین کی مدد سے، وہ قریبی عدالت میں جا کر اپنی شہادت درج کروائے یا متعلقہ مرکز سے رابطہ کرے۔
حکام نے اس امر پر زور دیا کہ جو افراد چاند دیکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں وہ اس معاملے پر توجہ دیں اور ملک کے مختلف علاقوں میں قائم کمیٹیوں کے ساتھ تعاون کریں۔
دوسری جانب بین الاقوامی فلکیاتی مرکز نے خبردار کیا ہے کہ اس روز چاند دیکھنے کی کوشش آنکھوں کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق چاند سورج کے قریب ہونے اور سورج گرہن کے باعث براہِ راست دیکھنے کی کوشش عارضی یا مستقل بینائی متاثر ہونے کا سبب بن سکتی ہے۔
ماہرین نے واضح کیا ہے کہ مستند فلکیاتی مراکز بین الاقوامی حفاظتی اصولوں کے مطابق خصوصی آلات اور منظور شدہ فلٹرز کے ذریعے مشاہدہ کرتے ہیں۔
شارجہ کے فلکیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ جدید دوربین کے باوجود نہ صرف متحدہ عرب امارات بلکہ بیشتر اسلامی ممالک میں چاند دیکھنا ممکن نہیں ہوگا۔
عوام سے کہا گیا ہے کہ روزوں کے آغاز کے تعین کے لیے مستند فلکیاتی اور مذہبی اداروں کی تصدیق شدہ اطلاعات پر انحصار کیا جائے۔
جبکہ سلطنتِ عمان نے سائنسی شواہد کی بنیاد پر اعلان کیا ہے کہ منگل کو چاند غروبِ آفتاب سے قبل یا اسی وقت غروب ہو جائے گا، اس لیے بدھ 19 فروری کو رمضان المبارک کا پہلا روزہ ہوگا۔
رمضان المبارک کے آغاز کے تعین میں سائنسی اور شرعی پہلو اہم کردار ادا کریں گے۔






