خلیج اردو
پاک افغان سرحد پر افغان طالبان کی جانب سے مبینہ بزدلانہ حملے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے بھرپور جوابی کارروائی کرتے ہوئے آپریشن “غضب للحق” میں دشمن کو بھاری جانی اور عسکری نقصان پہنچانے کا دعویٰ کیا ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائی کے دوران 133 افغان خارجی ہلاک جبکہ 200 سے زائد زخمی ہوئے، 30 پوسٹیں مکمل تباہ کر دی گئیں اور 9 افغان پوسٹوں پر قبضہ کر لیا گیا۔ آپریشن میں ایک بڑا ایمونیشن ڈپو، تین افغان بٹالینز اور ایک سیکٹر ہیڈکوارٹر بھی تباہ کر دیا گیا جبکہ 80 سے زائد ٹینکس، آرٹلری گنز اور بکتر بند گاڑیاں بھی نشانہ بنائی گئیں۔ خرلاچی ٹرمینل پر افغان طالبان کی متعدد پوسٹیں ملیا میٹ کر دی گئیں جبکہ قندھار میں بریگیڈ ہیڈکوارٹر، لاجسٹکس بیس اور دیگر عسکری تنصیبات کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔
سیکیورٹی فورسز نے چترال، خیبر، مہمند، کرم اور باجوڑ سیکٹرز میں بھی بھرپور جوابی کارروائی کی جبکہ بارڈر کراس کرنے والے فتنہ الخوارج کے دہشتگرد عبداللہ انامی کو گرفتار کر لیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق طورخم بارڈر پر افغان طالبان اپنی پوسٹیں چھوڑ کر فرار ہو گئے جبکہ پاک فوج نے افغان پوسٹوں پر قبضے کے بعد قومی پرچم بھی لہرا دیا۔
دوسری جانب افغان طالبان کی جانب سے باجوڑ میں شہری آبادی کو نشانہ بنانے کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے، جہاں مارٹر گولے گرنے سے پانچ افراد زخمی ہوئے جن میں تین خواتین شامل ہیں۔ شیلنگ کے باعث ایک مسجد کی چھت اور دیگر حصے بھی متاثر ہوئے، جبکہ زخمیوں کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔
صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیرِ اعظم شہباز شریف نے پاک فوج کی بروقت اور مؤثر کارروائی پر خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج وطن کی سالمیت اور سرحدوں کے تحفظ کے لئے سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑی ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ عاصم منیر کی قیادت میں افواج ہر اندرونی و بیرونی چیلنج سے نمٹنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہیں اور دفاعِ وطن پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا کہ طالبان دہشتگردی ایکسپورٹ کر رہے ہیں اور خطے کے امن کو تباہ کر رہے ہیں، جبکہ وزیر داخلہ محسن نقوی نے شہری آبادی کو نشانہ بنانے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دشمن نے رات کی تاریکی میں معصوم شہریوں کو نشانہ بنانے کی مذموم کوشش کی جو ناقابل برداشت ہے۔ وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ عملی میدان میں شکست کے بعد افغان طالبان جھوٹے پراپیگنڈے کا سہارا لے رہے ہیں جبکہ اس کارروائی میں پاک فوج کے دو جوان شہید اور تین زخمی ہوئے ہیں۔
ادھر خیبرپختونخوا کے عوام نے دشمن کے خلاف ہر محاذ پر پاک فوج کے ساتھ کھڑے رہنے کے عزم کا اظہار کیا جبکہ پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین طاہر اشرفی نے کہا کہ ملک میں مزید خون نہیں بہنے دیا جائے گا اور دہشتگردوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کی جائے گی۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز، وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی اور وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے بھی پاک فوج کی کارروائی کو سراہتے ہوئے کہا کہ دشمن کی مہم جوئی کا منہ توڑ جواب دینے کیلئے پوری قوم متحد ہے اور پاکستان اپنی جغرافیائی حدود کے دفاع پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
حکومتی رہنماؤں کے مطابق پاکستان نے افغانستان میں عسکری اہداف کو نشانہ بناتے ہوئے فوری اور مؤثر جواب دیا ہے اور عالمی برادری کو شواہد کے ساتھ صورتحال سے آگاہ کیا جائے گا۔ حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج ہر قسم کی سرحدی جارحیت کا فیصلہ کن جواب دینے کیلئے ہمہ وقت تیار ہیں اور خطے کو دہشت گرد تنظیموں کی محفوظ پناہ گاہ نہیں بننے دیا جائے گا۔
یہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ سرحدی سلامتی کے معاملے پر پاکستان کا مؤقف مزید سخت ہو رہا ہے اور کسی بھی جارحیت کا فوری اور مؤثر جواب دینے کی پالیسی اپنائی جا رہی ہے۔






