خلیج اردو
اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کیٹز نے اعلان کیا کہ اسرائیل نے ایران پر پیشگی حملہ کیا ہے اور ممکنہ جوابی حملوں کے خطرے کے پیش نظر ملک بھر میں ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی ہے۔ شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ حفاظتی پناہ گاہوں کے قریب رہیں اور چوکس رہیں۔
اسرائیل اور امریکہ کے مشترکہ حملوں کے بعد ایران نے تہران اور دیگر شہروں میں متعدد دھماکے ریکارڈ کیے ہیں، جبکہ فضائی حدود بند کر دی گئی ہیں۔ عراق، کویت اور متحدہ عرب امارات نے بھی ایران کے لیے پروازیں معطل کر دی ہیں۔ فلائی دبئی اور ایئرعربیا سمیت کئی ایئرلائنز نے پروازیں منسوخ یا متبادل راستوں سے چلانے کا اعلان کیا ہے۔
امریکی سفارتخانوں نے متحدہ عرب امارات میں تمام عملے اور شہریوں کو "سہلٹر ان پلیس” کے لیے کہا ہے۔ بھارتی اور دیگر ممالک کے سفارتخانے بھی شہریوں کو محفوظ مقامات پر رہنے اور غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کرنے کی ہدایت دے رہے ہیں۔
اسرائیل کی دفاعی فوج نے بتایا کہ ملک میں سائرن اور موبائل الرٹس صرف احتیاطی تدابیر ہیں تاکہ عوام ممکنہ میزائل حملوں سے محفوظ رہیں۔ شمالی اسرائیل میں بھی ایرانی میزائلوں کو ناکارہ بنانے کی کارروائیاں جاری ہیں، اور اسپتالوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے۔
اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے کہا کہ حملہ ایران کی "وجودی خطرے” کو ختم کرنے کے لیے کیا گیا، اور آپریشن "دی رور آف دی لائن” کے تحت ایرانی عوام کو ظلم و جبر سے آزاد کرنے کا مقصد ہے۔
خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے، اور بین الاقوامی سفارتخانے شہریوں کو محتاط رہنے اور سرکاری ذرائع سے معلومات حاصل کرنے کی ہدایت دے رہے ہیں۔







