متحدہ عرب امارات

وزیراعظم شہباز شریف نے عالمی حالات کے تناظر میں معاشی ترقی، سادگی اور بچت پر مبنی جامع لائحہ عمل تیار کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے 48 گھنٹوں میں تجاویز طلب کر لیں

خلیج اردو
وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت معاشی صورتحال پر اہم جائزہ اجلاس ہوا جس میں حالیہ علاقائی کشیدگی اور اس کے خطے پر ممکنہ معاشی اثرات کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

اجلاس میں حکام نے بتایا کہ خطے میں بڑھتی کشیدگی عالمی منڈیوں، توانائی کی قیمتوں اور سپلائی کے نظام پر اثر انداز ہو سکتی ہے، جس کے پاکستان کی معیشت پر بھی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔

وزیراعظم نے ہدایت دی کہ عالمی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے معاشی ترقی، سادگی اور بچت پر مبنی جامع حکمت عملی تیار کی جائے اور اس حوالے سے 48 گھنٹوں میں قابلِ عمل تجاویز پیش کی جائیں۔

شہباز شریف نے کہا کہ لائحہ عمل بناتے وقت اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ عوام پر بوجھ کم سے کم ہو اور عوامی ریلیف کو اولین ترجیح دی جائے۔

وزیراعظم نے پیٹرول کی مصنوعی قلت پیدا کرنے یا ذخیرہ اندوزی میں ملوث پیٹرول پمپوں اور کمپنیوں کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ایسے عناصر کے پمپ فوری بند کر کے ان کے لائسنس منسوخ کیے جائیں۔

انہوں نے پیٹرولیم مصنوعات کی بچت کے لیے عملی منصوبہ تیار کرنے کی ہدایت بھی کی اور کہا کہ وزیر خزانہ اور وزیر پیٹرولیم چاروں صوبوں کا دورہ کر کے اس حوالے سے مشاورت کریں۔

ماہرین کے مطابق حکومت کی یہ ہدایات موجودہ عالمی کشیدگی کے دوران ملکی معیشت کو مستحکم رکھنے اور عوامی مشکلات کم کرنے کی کوشش کا حصہ سمجھی جا رہی ہیں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button