متحدہ عرب امارات

ایران کے حملوں میں متحدہ عرب امارات میں چار شہری ہلاک، متاثرہ ممالک میں پاکستان، بنگلہ دیش اور نیپال شامل، شہری انفراسٹرکچر پر خطرات عیاں

خلیج اردو
متحدہ عرب امارات میں ایران کے میزائل اور ڈرون حملوں کے نتیجے میں چار شہری ہلاک اور 100 سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔ حکام نے بارہا واضح کیا کہ یو اے ای نے اپنے علاقے، فضائی حدود یا پانی کو ایران کے خلاف کسی حملے کے لیے استعمال کی اجازت نہیں دی اور یہ جنگ میں براہِ راست شامل نہیں ہے۔

ہلاک ہونے والے شہری مختلف ممالک سے تعلق رکھتے تھے۔ پہلا واقعہ 28 فروری کو سامنے آیا جب پاکستانی شہری مورِب زمان، جو تقریباً آٹھ سال سے ابوظہبی میں کام کر رہے تھے، ہلاک ہوئے۔ اسی دن 55 سالہ بنگلہ دیشی رہائشی صالح احمد اجمان میں ہلاک ہوئے، جو پانی کی ترسیل کے دوران حملے کے ملبے سے متاثر ہوئے۔

1 مارچ کو 29 سالہ نیپالی شہری دیباس شریستھا زاید انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب ڈرون کے ملبے سے ہلاک ہوئے۔ وہ ایک سال سے یو اے ای میں سیکیورٹی گارڈ کے طور پر کام کر رہے تھے۔

تازہ ترین ہلاکت 7 مارچ کو دبئی کے البرشا علاقے میں ہوئی، جب ایک پاکستانی ڈرائیور پر فضائی ملبہ گرا۔ پاکستانی سفارتخانے نے ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے مقامی حکام کے ساتھ اہل خانہ کی مدد جاری رکھی ہے۔

یہ واقعات اس بات کو واضح کرتے ہیں کہ خطے میں جاری کشیدگی کے دوران شہری انفراسٹرکچر اور غیر جنگجو افراد پر خطرات موجود ہیں، اور بین الاقوامی قانونی و انسانی اصولوں کے مطابق شہریوں کو محفوظ رکھنا ضروری ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button