
خلیج اردو
مشرق وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے۔ برینٹ کروڈ کی قیمت 87.57 ڈالر فی بیرل تک پہنچی جبکہ ڈبلیو ٹی آئی 83.08 ڈالر فی بیرل تک گر گئی ہے، جس سے عالمی توانائی مارکیٹ میں عدم استحکام پیدا ہو گیا ہے۔
بین الاقوامی توانائی ایجنسی نے پہلی بار ہنگامی ذخائر سے بڑی مقدار میں تیل مارکیٹ میں لانے کی تجویز دی ہے تاکہ سپلائی کی کمی کو پورا کیا جا سکے اور قیمتوں کو مستحکم بنایا جا سکے۔
امریکا اب آبنائے ہرمز کے کنٹرول اور آئل ٹینکرز کو بحفاظت گزارنے کے لیے فوجی کارروائی پر غور کر رہا ہے۔ آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث یومیہ تقریباً پندرہ ملین بیرل خام تیل کی ترسیل رکی ہوئی ہے، جس سے عالمی توانائی کی رسد متاثر ہو رہی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر کشیدگی جاری رہی تو عالمی تیل کی قیمتیں مزید بلند ہو سکتی ہیں اور توانائی کی عالمی سپلائی پر دیرپا اثر پڑ سکتا ہے۔






