
خلیج اردو
ایران نے امریکا کے ساتھ کشیدگی کم کرنے کی تجاویز مسترد کر دی ہیں۔ ایک سینئر ایرانی عہدیدار کے مطابق دو ثالثی ممالک کی جانب سے بھیجی گئی تجاویز کو سپریم لیڈر نے یہ کہتے ہوئے رد کر دیا کہ “اب یہ وقت امن کا نہیں، امریکا اور اسرائیل کو شکست دینا ہوگی، اور امریکا کو ایران کو پہنچنے والے نقصانات کا ہرجانہ ادا کرنا ہوگا۔”
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بھی واضح اعلان کیا کہ ایران امریکا اور اسرائیل کے سامنے سرنڈر نہیں کرے گا۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ خطے میں ایران کے خلاف امریکی فوجی اڈوں کا استعمال بند ہونا چاہیے، کیونکہ یہ اڈے ایران اور ہمسایہ ممالک کے تعلقات خراب کرنے کا باعث بن رہے ہیں۔
ایران کے نائب وزیر خارجہ سعید خطیب زادہ نے خبردار کیا کہ اگر امریکا نے ایران میں زمینی فوج اتاری تو اسے ایک اور ویتنام جیسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ادھر ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کا کہنا ہے کہ دشمن کے تمام منصوبے ناکام ہو چکے ہیں اور ایران خود اس معاملے کو اپنے انجام تک پہنچائے گا۔
بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران فی الحال سفارتی حل کے بجائے سخت مؤقف اختیار کیے ہوئے ہے، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔





