عالمی خبریں

امریکہ اسرائیل ایران جنگ دن 28، ٹرمپ نے ایران کی توانائی تنصیبات پر حملے 10 دن کیلئے روک دیے، خلیج اردو

مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے 28ویں دن صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے جہاں ایک جانب اسرائیلی حملے تہران تک پھیل گئے ہیں تو دوسری جانب امریکہ نے ایران پر دباؤ بڑھا دیا ہے، تاہم اسی دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی توانائی تنصیبات کو نشانہ بنانے والی کارروائیاں 10 دن کیلئے معطل کر دی ہیں تاکہ مذاکرات کو موقع دیا جا سکے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ یہ فیصلہ ایرانی حکومت کی درخواست پر کیا گیا اور یہ مہلت 6 اپریل 2026 تک مؤثر رہے گی، انہوں نے کہا "مذاکرات مثبت سمت میں جا رہے ہیں” جبکہ اس کے برعکس بیانات کو غلط قرار دیا۔

ادھر اسرائیلی فوج نے تہران میں بڑے پیمانے پر حملے کرتے ہوئے اہم انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا جبکہ لبنان کے دارالحکومت بیروت کے جنوبی علاقوں میں بھی زور دار دھماکوں کی اطلاعات سامنے آئیں، جس سے جنگ کے دائرہ کار میں مزید وسعت آ گئی ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایرانی پاسدارانِ انقلاب نیوی کے سربراہ علی رضا تنگسیری کی ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے، جبکہ امریکی حکام نے ایرانی نیوی اہلکاروں کو خبردار کیا ہے کہ وہ اپنی پوزیشن چھوڑ دیں تاکہ مزید جانی نقصان سے بچ سکیں۔

ایران کی جانب سے بھی سخت ردعمل سامنے آیا ہے، پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے اسرائیل اور خلیجی ممالک میں امریکی فوجی اڈوں کو میزائل اور ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا، جن میں متحدہ عرب امارات، قطر، کویت اور بحرین شامل ہیں۔

خلیجی ممالک میں کشیدگی بڑھنے کے ساتھ ساتھ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی صورتحال بھی متاثر ہوئی، تاہم امریکی حکام کے مطابق اب بحری ٹریفک میں بتدریج بہتری آ رہی ہے اور آئل ٹینکرز دوبارہ آنا شروع ہو گئے ہیں۔

ادھر عالمی منڈیوں میں بھی اس جنگ کے اثرات نمایاں ہو رہے ہیں، تیل کی قیمتوں میں معمولی کمی دیکھی گئی لیکن مجموعی طور پر قیمتیں جنگ کے آغاز سے اب تک تقریباً 40 سے 50 فیصد تک بڑھ چکی ہیں، جبکہ اسٹاک مارکیٹس میں غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ جنگ طویل ہو گئی تو عالمی سطح پر خوراک، توانائی اور معیشت کو شدید جھٹکا لگ سکتا ہے، جس کے اثرات آنے والے مہینوں میں مزید واضح ہوں گے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button