عالمی خبریں

پینٹاگون بریفنگ کے بعد اہم نکات سامنے، جنگ بندی برقرار مگر خطرات موجود، پروجیکٹ فریڈم کے تحت آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے تحفظ کیلئے امریکی اقدامات جاری

خلیج اردو
امریکی محکمہ دفاع میں بریفنگ کے دوران پیٹ ہیگستھ اور جنرل ڈین کین نے واضح کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی تاحال برقرار ہے، تاہم صورتحال بدستور نازک ہے۔

انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کے تحفظ کیلئے شروع کیا گیا “پروجیکٹ فریڈم” عارضی نوعیت کا اقدام ہے اور امریکا کسی نئی جنگ کا خواہاں نہیں۔

جنرل ڈین کین کے مطابق امریکی افواج مکمل طور پر تیار ہیں اور اگر حکم ملا تو ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائیاں دوبارہ شروع کی جا سکتی ہیں، تاہم موجودہ حملے اس حد تک نہیں پہنچے۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ جنگ بندی کے بعد بھی ایران کی جانب سے تجارتی جہازوں پر کئی حملے کیے گئے اور دو جہازوں کو قبضے میں لیا گیا، جبکہ امریکی افواج پر بھی متعدد حملے ہوئے۔

امریکی حکام کے مطابق “پروجیکٹ فریڈم” کا مقصد عالمی تجارتی جہازوں کی محفوظ آمد و رفت کو یقینی بنانا ہے، جبکہ امریکی بحریہ نے ایرانی کشتیوں، میزائلوں اور ڈرونز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔

پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ امریکا نے آبنائے ہرمز میں “ریڈ، وائٹ اینڈ بلیو ڈوم” کے نام سے ایک حفاظتی نظام قائم کیا ہے، جس کے تحت گزرنے والے جہازوں کو تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے ایران کو واضح جارح قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ طویل عرصے سے عالمی جہاز رانی کو ہراساں کر رہا ہے اور اسے بین الاقوامی آبی گزرگاہ پر کنٹرول حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

بریفنگ کے مطابق اس وقت تقریباً 22 ہزار 500 ملاح 1550 سے زائد تجارتی جہازوں پر پھنسے ہوئے ہیں، جس سے عالمی تجارت متاثر ہو رہی ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں جاری اس آپریشن کو محدود مدت کیلئے قرار دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ مناسب وقت پر اس کی ذمہ داری دیگر ممالک کو منتقل کی جائے گی۔

امریکی وزیر دفاع نے خبردار کیا کہ اگر امریکی افواج یا تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا گیا تو سخت اور فیصلہ کن ردعمل دیا جائے گا۔

یہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ جنگ بندی برقرار ہونے کے باوجود خطے میں کشیدگی ختم نہیں ہوئی اور صورتحال کسی بھی وقت مزید بگڑ سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button