سوال
میں ایک طالب علم ہوں اور ایک عجیب پریشانی کا سامنا کر رہا ہوں۔ میرے سکو میں کچھ بچے مجھے پریشان کررہے ہیں۔ وہ میرا مذاق اڑاتے اور مجھے ڈراتے دھمکاتے ہیں۔ وہ مجھے جسمانی طور پر کوئی نقصان نہیں پہنچاتے لیکن ایسے تبصرے کرتے ہیں جن سے مجھے اپنی توہین یا بے عزتی محسوس ہوتی ہے۔ میں اسے بارے میں اپنے استاد سے شکایت کر چکا ہوں لیکن کوئی کاروائی نہیں کی گئی۔ کیا میرے پاس اس کا کوئی قانونی راستہ موجود ہے؟ کیا کوئی ایسی اتھارٹی ہے جو انہیں ایسے کرنے سے باز رکھنے کے لیے کوئی وارننگ یا کوئی کاروائی کر سکے؟َ
جواب
کسی ساتھی طالب علم کے ساتھ بدسلوکی یا توہین آمیز تبصرے یا بدکلامی وزارتی قرارداد نمبر (851) کے آرٹیکل 7 (1) کے تحت جرم نمبر 2.8 کے مطابق ثانوی درجے کا جرم ہے۔ وزارت تعلیم (‘ایم او ای’) کی طرف سے جاری کردہ قرارداد نمبر 851 (2018 ) کے مطابق:
"آرٹیکل7 کے تحت جرائم درج ذیل ہیں”:
1.کسی دوسرے شخص کے ساتھ سلوک کے حوالے سے جرائم کو ان کی ڈگری ، شدت اور طلباء پر اور عام طور پر تعلیمی ماحول اور برادری پر اثرات کے مطابق چار درجوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ اس طرح کے درجات کے حوالے سے کاروائی دفعات کے مطابق عمل میں لائی جائی گی ، بشرطیکہ ان میں سے ہر ایک کو منظور شدہ قواعد و ضوابط کے مطابق درج کیے گئے ہوں۔ اور تعلیمی اقدار اور نظام کے مطابق اس سے نمٹا جائے گا۔
"دوسرے درجے کے جرائم یا درمیانی شدت کے جرائم درج ذیل ہیں:
"اسکول کے طلباء، عملے، یا اسکول آنے والے وزٹرز کے ساتھ بدکلامی یا گالم گلوچ کرنا۔ ”
وزارت تعلیم (‘ایم او ای’) کی طرف سے جاری کردہ قرارداد نمبر 851 (2018 ) کے مطابق ایسے جرائم سے نمٹںے کے طریقے درج ذیل ہیں:
1۔ جرم کرنے والے طالب علم کو سب سے پہلے تحریری انتباہ جاری کرنا اور فارم نمبر 9 کے مطابق طالب علم کو کسی جرم پر دوبارہ عمل نہ کرنے کےلیے بیان حلفی پر دستخط کرنے کی ہدایت کرنا۔
2۔ تعلیمی مشیر یا سماجی کارکن کے ذریعہ انفرادی کیس اسٹڈی کی فائل کو مکمل کرنا۔
3۔ کسی جرم کے کیے جانے اگلے دن اس طالب علم کے سرپرست کو طلب کرنا اور ان سے معاہدے پر دستخط لیان کہ وہ اپنے بیٹے یا بیٹی کے رویے میں اصلاح کریں گے۔
4۔ ایک جرم سرز ہوجانے کے بعد اس طالب علم کے طرز عمل کی نگرانی کرنا اور اس کی رہنمائی کے لیے سیشنز کا اہتمام کرنا
درج بالا قوانین سے ثابت ہوتا کہ ایک اسکول میں ہونے والے ایسے جرم سے نمٹنے کے لیے اسکول انتظامیہ پابند ہے۔ تاہم ، چونکہ آپ کی شکایت کے باوجود کوئی کارروائی نہیں کی گئی ، لہذا آپ اپنی شکایات درج کروانے کے لیے ‘چائلڈ پروٹیکشن یونٹ’ سے رابطہ کر سکتے ہیں۔
یاد رہےکہ ‘چائلڈ پروٹیکشن یونٹ’ وزارت تعلیم کی جانب قائم کردہ ایک خصوصی یونٹ ہے، جس کا مقصد بچوں کو ان تعلیمی اداروں میں اور ان کے گھر پر لاپرواہی اور بدسلوکی اور کسی بھی اور جرم کا نشانہ بننے سے بچانا ہے۔
اس کے بعد ‘چائلڈ پروٹیکشن یونٹ’ کی طرف سے موصول کردہ ہدایات کی بنیاد پر آپ پولیس اسٹیشن میں آپ پر توہین آمیز تبصرے کرنے والے طلباء کے خلاف فوجداری شکایت درج کروانے کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔ آُپ درج بالا شکایت تحریری یا زبانی درج کروا سکتے ہیں۔ سرکاری وکیل متحدہ عرب امارات کے 1987 کے تعزیراتی ضابطہ نمبر 2 اور 1976 کے وفاقی قانون نمبر (9) کے تحت آپ کی شکایت نو عمر مجرموں کے خلاف درج کرنے کا فیصلہ کر سکتا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی یاد رکھا جائے کہ متحدہ عرب امارات کے پینل کوڈ 1987 کے وفاقی قانون نمبر 3 کے آرٹیکل 374 کے مطابق "متحدہ عرب امارات میں کسی فرد کی توہین کرنا ایک جرم ہے”:
آرٹیکل 374 کے مطابق:
ٹیلیفون کے ذریعہ یا دوسروں کی موجودگی میں کسی کے ساتھ بدسلوکی یا بدکلامی کرنے والے کو زیادہ سے زیادہ چھ ماہ تک قید کی سزا یا 5 ہزار درہم جرمانے کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔
اگر کسی کی توہین کسی تیسرے فریق کی غیر موجودگی میں یا خط کے ذریعے کی گئی ہے تو زیادہ سے زیادہ 5 ہزار درہم کا جرمانے کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔
یاد رہے کہ یہ مضمون خلیج ٹائمز سے لیا گیا ہے۔ جس میں ایک طالب علم اپنے ساتھ ہونے والی بدسلوکی خلاف قانونی چارہ جوئی کرنے کے لیے رہمنائی چاہتا ہے۔
Source : Khaleej Times






