خلیجی خبریں

عید الاضحی اور حج کی تکمیل میں عرفات کے قیام کی اہمیت

عید الاضحی 31 جولائی اور عرفات میں قیام 30 جولائی کو کیا جائے گا

عید الاضحی اور حج کی تکمیل میں عرفات کے قیام کی بہت اہمیت ہے۔ مسلمانوں کے لئے عید الاضحی کی بہت اہمیت اور افادیت ہے
عید الاضحی مسلمانوں کا مذہبی تہوار ہے جو سنت ابراہیمی پر عمل کرتے ہوئے منایا جاتا ہے ۔

عید الاضحی 10 ذو الحجہ کو حج کے فرائض کی تکمیل کرتا ہے جس میں اللہ تعالی کی خوشنودی کے لئے خلال جانور کو قربانی کے لئے پیش کیا جاتا ہے ۔ اس سال عید الاضحی 31 جولائی کو منائی جائے گی۔

عید الاضحی مسلمانوں کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ایثار کی یاد دلاتی ہے کہ جب اللہ تعالی نے خواب کے ذریعے بیدار کیا کہ اپنے عزیز چیزوں کو اللہ تعالی پر قربان کردیں ۔ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو قربان کرنے کا فیصلہ کرلیا تو اللہ تعالی نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ایثار کو دیکھتے ہوئے قربانی قبول فرما دی اور حکم صادر فرمایا کہ تا قیامت اللہ تعالی کی راہ میں قربانی عطا کی جائے گی۔

مسلمانوں کے لئے قربانی کا مقصد گوشت کا حصول نہیں بلکہ غریبوں اور مسکینوں کو گوشت عنائت کرنا ہے ۔ عید الاضحی کے موقع پر وہ سنتیں جو ہر مسلمان پر عائد ہوتی ہے ان میں صبح سویرے اٹھنا اچھا ناشتہ کرنا غسل کرنا اچھی خوشبو لگانا اور عید الاضحی کی نماز ادا کرکے جانور قربان کرنا شامل ہے۔

عید الاضحی کے موقع پر اپنے عزیز واقارب کو عید کی مبارک باد دینا اور عید کے پیغامات اور تحائف بھیجنا بھی نہایت بہترین عمل ہے۔
جو مسلمان حج کے دوران عید الاضحی مناتے ہیں ان کے لئے یہ عید نہایت پرمسرت ہوتی ہے کیونکہ اس عید سے حج کے مناسک پورے ہوجاتے ہیں ۔

حج کے مناسک میں عرفات پر قیام اہم رکن ہے جس کو 9 ذولحجہ پر انجام دینا پڑھتا ہے۔ عرفات کا میدان وہ جگہ ہے جہاں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے آخری خطبہ ارشاد فرمایا تھا اور اسلامی تعلیمات کو پائے تکمیل تک پہنچایا تھا ۔

حجاج عرفات کی پہاڑی پر کھڑے ہوکر حج کے فرائض کو مکمل کرتے ہیں اور عصر تک قیام کرتے ہیں ۔اگر عرفات کی پہاڑی پر قیام نہ کیا جائے تو حج مکمل نہیں تصور کیا جاتا ۔
حجاج منعی سے عرفات کا سفر کرتے جس کا فاصلہ 20 کلومیٹر تک لمبا ہے ۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button