
میرے والد ونگ کمانڈر منظور حسن جنگِ ستمبر 1965ء کے غازی تھے، ان کی وطن کے دفاع کیلئے خدمات ہمارے خاندان کیلئے باعثِ فخر ہیں، معروف پلمونولوجسٹ
خلیج اردو
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) — معروف پلمونولوجسٹ ڈاکٹر شازلی منظور نے کہا ہے کہ جنگِ ستمبر 1965ء پاکستان کی تاریخ کا ایسا ناقابلِ فراموش باب ہے جو قومی اتحاد، شجاعت، قربانی، عزم اور حب الوطنی کی لازوال داستان اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ جنگِ ستمبر کے شہداء اور غازیوں نے وطن کے دفاع کیلئے جو قربانیاں دیں وہ ہمیشہ قوم کیلئے مشعلِ راہ رہیں گی، جبکہ ستمبر کا مہینہ ہمیں اپنے قومی فرائض اور ذمہ داریوں کا احساس بھی دلاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جنگِ ستمبر ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ جب کوئی قوم اپنے وطن کے دفاع اور سلامتی کیلئے متحد ہوجائے تو اس کے عزم اور حوصلے کو شکست دینا آسان نہیں ہوتا۔ 1965ء میں پاکستانی قوم نے اپنی مسلح افواج کے شانہ بشانہ جس جذبۂ اتحاد اور یکجہتی کا مظاہرہ کیا، وہ ہماری قومی تاریخ کا قابلِ فخر باب ہے۔ اس جنگ میں شہداء نے جانوں کے نذرانے پیش کئے جبکہ غازیوں نے بہادری اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں سے وطن کے دفاع کی ذمہ داری نبھائی۔
ڈاکٹر شازلی منظور نے کہا کہ جنگِ ستمبر کو یاد کرنا محض ایک تاریخی واقعے کو دہرانا نہیں بلکہ نئی نسل کو یہ بتانا بھی ہے کہ وطن کی محبت صرف الفاظ سے نہیں بلکہ عملی کردار، ذمہ داری، دیانت اور خدمت سے ثابت ہوتی ہے۔ آج بھی ہمیں اپنے شہداء اور غازیوں کی قربانیوں سے سبق حاصل کرتے ہوئے پاکستان کی ترقی، استحکام اور خوشحالی کیلئے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ ان کیلئے جنگِ ستمبر کی یاد اور بھی خصوصی اہمیت رکھتی ہے کیونکہ ان کے والد ونگ کمانڈر منظور حسن 1965ء کی جنگ کے غازی تھے۔ انہوں نے جنگِ ستمبر کے دوران وطن کے دفاع کیلئے اپنی ذمہ داریاں انجام دیں اور ملکی سرحدوں کے تحفظ میں اپنا کردار ادا کیا۔ ونگ کمانڈر منظور حسن کی دفاعِ وطن کیلئے خدمات نہ صرف ان کے خاندان بلکہ پوری قوم کیلئے قابلِ فخر سرمایہ ہیں۔
ڈاکٹر شازلی منظور نے کہا کہ ان کے والد نے جس دور میں آسمانوں اور ملکی سرحدوں کے دفاع کی ذمہ داری نبھائی، اسی جذبۂ خدمت کو انہوں نے اپنی زندگی میں ایک مختلف شعبے کے ذریعے آگے بڑھایا۔ ان کے والد نے وطن کے دفاع کیلئے خدمات انجام دیں جبکہ انہوں نے طب کے شعبے کو انسانی جانوں کے تحفظ اور خدمتِ خلق کا ذریعہ بنایا۔
انہوں نے کہا کہ وطن کی خدمت صرف جنگ کے میدان، سرحدوں یا دفاعی اداروں تک محدود نہیں بلکہ ہر شعبہ زندگی میں اپنے فرائض دیانت، محنت اور احساسِ ذمہ داری کے ساتھ ادا کرنا بھی حب الوطنی ہے۔ ایک ڈاکٹر اگر اپنے مریض کی جان بچانے کیلئے پوری دیانت اور پیشہ ورانہ صلاحیت کے ساتھ کام کرتا ہے، ایک استاد نئی نسل کی تربیت کرتا ہے، ایک انجینئر ملک کی تعمیر میں حصہ لیتا ہے اور ایک سائنس دان تحقیق کے ذریعے ملک کو آگے لے جاتا ہے تو یہ سب بھی خدمتِ وطن کی مختلف صورتیں ہیں۔
معروف پلمونولوجسٹ نے کہا کہ انسانی جان کا تحفظ بھی وطن کی خدمت ہے۔ ایک صحت مند قوم ہی مضبوط اور ترقی یافتہ ملک کی بنیاد رکھ سکتی ہے، اسی لیے ڈاکٹرز اور طبی شعبے سے وابستہ افراد کی ذمہ داری بھی غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔
ڈاکٹر شازلی منظور گزشتہ کئی برسوں سے شعبۂ طب میں خدمات انجام دے رہے ہیں اور امراضِ پھیپھڑا، سانس، نیند سے متعلق بیماریوں اور انتہائی نگہداشت کے شعبوں میں وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔ وہ تقریباً تین دہائیوں پر محیط طبی تجربہ رکھتے ہیں اور دمہ، دائمی پلمونری امراض، سانس کی الرجی، ہیموپٹیسس، نیند کے دوران سانس رکنے کی بیماری سمیت سانس اور پھیپھڑوں کے مختلف پیچیدہ امراض کے علاج سے وابستہ ہیں۔
وہ اسلام آباد کے ایڈوانس انٹرنیشنل ہسپتال میں بھی طبی خدمات انجام دے رہے ہیں جہاں پھیپھڑوں اور سانس سے متعلق امراض میں مبتلا مریضوں کا معائنہ اور علاج کرتے ہیں، جبکہ سیکٹر ایف سیون فور اسلام آباد میں ان کا نجی کلینک بھی قائم ہے۔
ڈاکٹر شازلی منظور نے کہا کہ جنگِ ستمبر کے غازیوں اور شہداء کی قربانیوں کا بہترین خراجِ عقیدت یہی ہے کہ ہم اپنے وطن کو مضبوط، پرامن، خوشحال اور صحت مند بنانے کیلئے اپنی ذمہ داریاں پوری کریں۔ قومیں صرف جنگیں جیتنے سے مضبوط نہیں ہوتیں بلکہ ان کی اصل طاقت ان کے ذمہ دار، محنتی اور باکردار شہری ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آج ہمیں اپنے بچوں اور نوجوانوں کو جنگِ ستمبر کے واقعات اور غازیوں و شہداء کی قربانیوں سے آگاہ کرنے کے ساتھ یہ بھی سمجھانا ہوگا کہ پاکستان کی خدمت ہر شخص اپنے شعبے میں رہتے ہوئے کرسکتا ہے۔ وطن سے محبت کا عملی تقاضا یہ ہے کہ ہم قانون کی پاسداری کریں، اپنے فرائض ایمانداری سے انجام دیں، دوسروں کے حقوق کا خیال رکھیں اور پاکستان کی ترقی میں اپنا حصہ ڈالیں۔
ڈاکٹر شازلی منظور کے مطابق ان کے والد ونگ کمانڈر منظور حسن کی جنگِ ستمبر میں دفاعِ وطن کیلئے خدمات اور ان کی اپنی طبی خدمات دراصل ایک ہی جذبے کی دو مختلف صورتیں ہیں؛ ایک نے وطن کی سرحدوں کی حفاظت کی اور دوسرے نے پاکستانی شہریوں کی انسانی زندگیوں کے تحفظ کو اپنی ذمہ داری بنایا۔
انہوں نے کہا کہ یہی جذبہ آنے والی نسلوں تک منتقل ہونا چاہیے کہ وطن کی خدمت کسی ایک ادارے، یونیفارم یا شعبے تک محدود نہیں بلکہ ہر پاکستانی اپنے کردار، پیشے اور ذمہ داری کو ایمانداری سے ادا کرکے پاکستان کی خدمت کرسکتا ہے۔ جنگِ ستمبر کا یہی پیغام آج بھی قومی اتحاد، قربانی، شجاعت اور خدمتِ وطن کی صورت میں ہمارے سامنے موجود ہے۔







