متحدہ عرب امارات

ابو ظہبی فورم: جی سی سی ممالک ایران تنازع کے حل کے لیے سفارتی کردار بڑھائیں

خلیج اردو
ابو ظہبی میں ہلی فورم کے دوران ماہرین نے کہا ہے کہ خلیجی ممالک کو ایران تنازع کے حل کے لیے زیادہ فعال سفارتی کردار ادا کرنا ہوگا اور صرف امریکا کی جانب سے کسی حل کا انتظار کرنے کے بجائے عالمی طاقتوں کے وسیع تر گروپ کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہیے۔

ماہرین کے مطابق موجودہ تنازع نے خلیج کے سکیورٹی نظام کی کمزوریوں کو نمایاں کردیا ہے جبکہ آبنائے ہرمز، ایران کے روس کے ساتھ بڑھتے ہوئے تعلقات اور خطے میں امریکا کے مستقبل کے کردار سمیت کئی اہم معاملات توجہ طلب ہیں۔

عرب گلف اسٹیٹس انسٹی ٹیوٹ کے صدر اور عراق میں سابق امریکی سفیر ڈگلس سلیمن نے کہا کہ خلیجی ممالک کو جاپان، جنوبی کوریا، آسٹریلیا، چین، لاطینی امریکا اور افریقہ کے ساتھ سفارتی روابط مزید مضبوط کرنے چاہئیں کیونکہ طویل جنگ کے اثرات صرف خطے تک محدود نہیں رہیں گے۔

ماہرین نے کہا کہ خلیجی ممالک کے لیے امریکا کے ساتھ مضبوط تعلقات برقرار رکھنا اہم ہے تاہم انہیں اپنی سفارتی صلاحیت اور علاقائی کردار بڑھانے کے ساتھ دیگر عالمی طاقتوں کے ساتھ اقتصادی اور تکنیکی شراکت داری بھی فروغ دینی چاہیے۔

آبنائے ہرمز اہم چیلنج

فورم میں آبنائے ہرمز کو خطے کے بڑے چیلنجز میں سے ایک قرار دیا گیا۔ ماہرین نے خبردار کیا کہ آبنائے ہرمز کی طویل بندش سے عالمی تجارت اور توانائی کی منڈیوں پر سنگین اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق خلیجی ممالک کو سفارت کاری کے ذریعے آبنائے ہرمز میں آزادانہ جہاز رانی یقینی بنانے کی کوشش کرنی چاہیے تاکہ وسیع تر فوجی محاذ آرائی سے بچا جاسکے۔

ایران میں طاقت کا مرکز تبدیل ہوگیا

ایمریٹس سینٹر فار اسٹریٹجک اسٹڈیز اینڈ ریسرچ کے ماہر ڈاکٹر محمود ساریولقلم نے کہا کہ جنگ کے بعد ایران میں طاقت کا توازن مذہبی قیادت کے بجائے فوجی اور سکیورٹی اداروں کی جانب نمایاں طور پر منتقل ہوگیا ہے۔

ان کے مطابق ایران کی موجودہ ترجیح معاشی اور تجارتی معاملات کے بجائے قومی سلامتی اور موجودہ نظام کو برقرار رکھنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ روس ایران کا اہم ترین اسٹریٹجک شراکت دار بن چکا ہے جبکہ ماسکو کی جانب سے انٹیلی جنس، نیوی گیشن اور فوجی صلاحیتوں سمیت مختلف شعبوں میں ایران کو معاونت فراہم کی جارہی ہے۔

ایران کو شدید معاشی دباؤ کا سامنا

ماہرین کے مطابق جنگ کے باعث ایران کو شدید معاشی نقصان اٹھانا پڑا ہے تاہم اس کے سیاسی نظام کے فوری خاتمے کا امکان نہیں۔ ڈاکٹر محمود ساریولقلم نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران ایران میں 50 لاکھ ملازمتیں ختم ہوئیں، مجموعی قومی پیداوار میں 6 فیصد اور صنعتی پیداوار میں 12 فیصد کمی ہوئی۔

ماہرین نے کہا کہ ایران کی سیاسی صورتحال کا مستقبل بڑی حد تک اس بات پر منحصر ہوگا کہ وہاں کی عوام طویل معاشی مشکلات اور جنگ پر کس طرح ردعمل دیتی ہے۔

ایران سے اجتماعی سفارت کاری پر زور

فورم میں ماہرین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات اور سفارت کاری تنازع کے خاتمے کے لیے اہم رہیں گے۔ انہوں نے جی سی سی ممالک پر زور دیا کہ وہ ایران کے ساتھ انفرادی طور پر نہیں بلکہ اجتماعی طور پر بات چیت کریں اور اقتصادی تعلقات کو سفارتی اثر و رسوخ بڑھانے کے لیے استعمال کریں۔

ماہرین کے مطابق سعودی عرب اور ایران جبکہ مصر اور ایران کے درمیان اقتصادی تعلقات بھی تہران کے علاقائی رویے پر اثرانداز ہونے کے لیے استعمال کیے جاسکتے ہیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ صرف سفارت کاری ایران کی سکیورٹی پالیسی اور خطے میں اس کے کردار کے بارے میں سوچ کو بنیادی طور پر تبدیل کرنے کے لیے کافی نہیں ہوگی۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button