
متحدہ عرب امارات میں بچوں کے لیے مقبول اسکویشی کھلونوں اور سلائم کے حوالے سے والدین کو محتاط رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق نامعلوم ذرائع سے خریدے گئے غیر معیاری کھلونوں میں خطرناک مواد یا چھوٹے اجزا شامل ہوسکتے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز میں کھلونوں کو غلط طریقے سے استعمال کرنے کے چیلنجز بھی بچوں کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔
شارجہ فیملی اینڈ کمیونٹی کونسل سے وابستہ چائلڈ سیفٹی آرگنائزیشن نے والدین پر زور دیا ہے کہ کھلونا خریدنے سے پہلے اس کے ماخذ، بچے کی عمر کے مطابق موزونیت اور پیکنگ پر موجود حفاظتی معلومات کا جائزہ لیا جائے۔
ماہرین کے مطابق بچوں میں سوشل میڈیا پر دیکھی جانے والی ویڈیوز کی نقل کرنے کا رجحان موجود ہے، جہاں اسکویشی کھلونوں کو گرم کرنے، کاٹنے، سوراخ کرنے یا مختلف اشیا کے ساتھ ملانے جیسے تجربات دکھائے جاتے ہیں۔ ایسے طریقے کھلونوں کے اصل استعمال کا حصہ نہیں ہوتے اور خطرناک ہوسکتے ہیں۔
امریکی کنزیومر پروڈکٹ سیفٹی کمیشن نے بھی جعلی اور غیر معیاری اسکویشی کھلونوں کے حوالے سے خبردار کیا ہے، جن میں واٹر بیڈز، خطرناک کیمیکلز یا چھوٹے اجزا شامل ہوسکتے ہیں۔ ادارے کے مطابق اسکویشی کھلونوں کو مائیکروویو میں گرم کرنے سے وہ پھٹ سکتے ہیں اور گرم مواد خارج ہونے کے باعث شدید جلنے کا سبب بن سکتے ہیں۔
والدین کو خاص طور پر ان اسکویشی کھلونوں سے محتاط رہنے کا مشورہ دیا گیا ہے جن میں جیل، مائع، پاؤڈر، ریت یا واٹر بیڈز موجود ہوں۔ بیرونی تہہ پھٹنے کی صورت میں بچہ اندر موجود مواد کے براہ راست رابطے میں آسکتا ہے، جبکہ واٹر بیڈ نگلنے سے دم گھٹنے یا جسم کے اندر پھیل کر آنتوں میں رکاوٹ پیدا ہونے کا خطرہ ہوسکتا ہے۔
ماہرین نے والدین کو ہدایت کی ہے کہ آن لائن مارکیٹ پلیسز یا غیر معروف فروخت کنندگان سے کھلونے خریدتے وقت خاص احتیاط کی جائے۔ پیکنگ پر کارخانہ دار یا سپلائر کی معلومات، تجویز کردہ عمر اور حفاظتی انتباہات واضح نہ ہوں یا قیمت غیر معمولی طور پر کم ہو تو خریداری سے پہلے مزید جانچ کی جائے۔
بچوں کو کھلونا دینے سے پہلے اس کا معائنہ بھی ضروری ہے۔ دراڑیں، سوراخ، لیکیج، تیز کیمیائی بو، غیر معمولی چپچپاہٹ یا کسی بھی قسم کا نقصان نظر آنے کی صورت میں کھلونا بچے کو استعمال کے لیے نہیں دینا چاہیے۔
سلائم کے حوالے سے بھی والدین کو احتیاط کا مشورہ دیا گیا ہے کیونکہ بچے اسے براہ راست ہاتھوں سے استعمال کرتے اور بعض اوقات منہ یا آنکھوں کے قریب لے جاتے ہیں۔ ماہرین نے سوشل میڈیا پر موجود گھریلو سلائم بنانے کی ترکیبوں سے بھی محتاط رہنے اور بچوں کو صفائی کے کیمیکلز، گھریلو کیمیکلز یا نامعلوم اشیا آپس میں ملانے کی اجازت نہ دینے پر زور دیا ہے۔
چائلڈ سیفٹی آرگنائزیشن کی ڈائریکٹر جنرل ہنادی صالح الیافعی کے مطابق محفوظ کھلونا ضروری نہیں کہ سب سے مہنگا یا مقبول ہو، بلکہ اہم بات یہ ہے کہ وہ بچے کی عمر کے لیے موزوں ہو، قابل اعتماد ذریعے سے حاصل کیا گیا ہو، اس کی پیکنگ پر واضح حفاظتی معلومات موجود ہوں اور اسے بچے کی عمر کے مطابق نگرانی میں استعمال کیا جائے۔
والدین کو یہ بھی ہدایت کی گئی ہے کہ اسکویشی کھلونوں کو مائیکروویو، گرم گاڑی، براہ راست دھوپ، ہیٹر اور دیگر گرم ذرائع سے دور رکھیں اور کھلونا خراب ہونے کی صورت میں اسے فوری طور پر ضائع کردیں۔







