متحدہ عرب امارات

آبنائے ہرمز کی بندش، یو اے ای نے متبادل تجارتی راستے فعال کردیے، مشرقی ساحلی بندرگاہوں کی ترقی بھی تیز

خلیج اردو
دبئی: آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث یو اے ای نے تجارت اور سپلائی چین کا سلسلہ برقرار رکھنے کے لیے متبادل لاجسٹکس راستے فعال کردیے ہیں جبکہ مشرقی ساحل کی بندرگاہوں کی ترقی بھی تیز کردی گئی ہے۔

یو اے ای کے وزیر مملکت برائے خارجہ تجارت ڈاکٹر ثانی بن احمد الزیودی نے ہلی فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خطے کو درپیش جغرافیائی سیاسی چیلنجز نے عالمی سپلائی چینز کو بھی متاثر کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد یو اے ای نے خلیج عرب کو بحیرہ احمر اور خلیج عمان سے ملانے والے علاقائی لاجسٹکس راستے فعال کیے ہیں۔

عمان کے تعاون سے صحار اور دقم کی بندرگاہوں کے ذریعے یو اے ای جانے والی اشیا کی ترسیل بھی کی جارہی ہے جبکہ سڑک، ریل اور فریٹ سروسز کے ذریعے زمینی راستوں سے سامان منتقل کیا جارہا ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

یو اے ای نے خورفکان، فجیرہ اور دبا کی مشرقی ساحلی بندرگاہوں کی ترقی بھی تیز کردی ہے جبکہ توانائی کے وسائل کو عالمی منڈیوں تک پہنچانے کے لیے نئی پائپ لائنز بھی فعال کی جارہی ہیں۔

ثانی الزیودی کے مطابق یہ اقدامات عارضی حل نہیں بلکہ یو اے ای کی تجارتی پوزیشن میں مستقل تبدیلی کا حصہ ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ 2026 کی پہلی ششماہی میں یو اے ای کی غیر تیل بیرونی تجارت ریکارڈ 1.94 ٹریلین درہم تک پہنچ گئی جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 13.1 فیصد زیادہ ہے۔

وزیر خارجہ تجارت نے کہا کہ عالمی آبی گزرگاہیں آزاد اور کسی بھی قسم کی پابندی یا ٹول سے پاک ہونی چاہئیں۔ ان کے مطابق کسی ایک ملک کو یہ اختیار نہیں ہونا چاہیے کہ وہ دوسرے ممالک کی تجارت اور آبنائے ہرمز تک رسائی کا فیصلہ کرے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button