
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات میں خزاں کی آمد کے ساتھ موسم میں بتدریج خنکی بڑھنے لگی ہے اور ملک کے مختلف علاقوں میں صبح کے اوقات میں درجہ حرارت 20 ڈگری سینٹی گریڈ سے کم ریکارڈ کیا جانے لگا ہے۔
نیشنل سینٹر آف میٹرولوجی کے مطابق پیر 28 ستمبر کو متحدہ عرب امارات میں کم ترین درجہ حرارت العین کے رکنہ علاقے میں ریکارڈ کیا گیا، جہاں صبح 6 بجے درجہ حرارت 18.6 ڈگری سینٹی گریڈ رہا۔
درجہ حرارت میں کمی موسمی تبدیلی کی ابتدائی علامات میں شامل ہے۔ فلکیاتی اعتبار سے موسم گرما 23 ستمبر کو ختم ہوچکا ہے، جب خزاں کا اعتدالِ خریفی شروع ہوا، جس کے بعد موسم بتدریج سرد ہونے کی جانب بڑھتا ہے۔
متحدہ عرب امارات میں رواں ماہ اس سے قبل بھی درجہ حرارت میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔ 18 ستمبر کو درجہ حرارت 18.8 ڈگری سینٹی گریڈ تک گر گیا تھا، جو خزاں کے آغاز سے چند روز پہلے کی صورتحال تھی۔
خزاں کے آگے بڑھنے کے ساتھ درجہ حرارت میں مزید کمی متوقع ہے، تاہم موسمی تبدیلی بتدریج ہوگی۔ موسم کے آغاز میں درجہ حرارت زیادہ سے زیادہ 39 ڈگری اور کم سے کم 26 ڈگری سینٹی گریڈ تک رہنے کا امکان ہے۔ نومبر کے آغاز میں خزاں کے وسط کے دوران زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 31 ڈگری جبکہ کم سے کم 18 ڈگری سینٹی گریڈ تک گر سکتا ہے۔
خزاں کے اختتام پر درجہ حرارت مزید کم ہوکر زیادہ سے زیادہ 25 ڈگری اور کم سے کم 13 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے کا امکان ہے، جبکہ یہ مرحلہ 22 دسمبر کو موسم سرما کے انقلاب کے ساتھ مکمل ہوگا۔
درجہ حرارت میں تبدیلی کے ساتھ متحدہ عرب امارات میں سرد مہینوں کی ایک اور نمایاں موسمی صورتحال، یعنی صبح کے وقت دھند کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے، خاص طور پر خزاں کے پہلے نصف میں دھند زیادہ نمایاں رہنے کی توقع ہے۔ اس دوران ہوا میں نمی بھی بڑھنے کا امکان ہے۔
ماہرین کے مطابق متحدہ عرب امارات میں درجہ حرارت میں بتدریج کمی اس بات کی علامت ہے کہ موسم سرما قریب آرہا ہے، تاہم خزاں کے ابتدائی دنوں میں موسم بدستور گرم رہنے کے بعد نمایاں ٹھنڈک محسوس ہوگی۔
اکتوبر سے متحدہ عرب امارات میں معمول سے زیادہ بارشوں کا امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے۔ نیشنل سینٹر آف میٹرولوجی کے ماہر موسمیات احمد حبیب کے مطابق اکتوبر اور نومبر سے جنوری تک آنے والے مہینوں میں بارش معمول سے زیادہ ہوسکتی ہے، تاہم بارش کی حتمی مقدار کے بارے میں یقین سے کچھ کہنا ممکن نہیں۔
یہ وضاحت رواں سال ایل نینو موسمیاتی رجحان کے حوالے سے بڑھتی ہوئی دلچسپی کے دوران سامنے آئی ہے۔ ایل نینو مشرقی استوائی بحرالکاہل میں سمندری سطح کے پانی کے معمول سے زیادہ گرم ہونے کی کیفیت کو کہا جاتا ہے، جو دنیا کے مختلف علاقوں کے موسمی حالات کو متاثر کرسکتی ہے، تاہم اس کی موجودگی کا لازمی مطلب یہ نہیں کہ کسی مخصوص ملک میں شدید موسمی صورتحال پیدا ہوگی۔







