
خلیج اردو
عمان کے علاقے راس الحد میں سمندری کچھوؤں کو مبینہ طور پر پریشان کرنے والے سیاح کے خلاف قانونی کارروائی شروع کردی گئی۔ عمان کی ماحولیاتی اتھارٹی کے مطابق سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں سیاح کو سمندری کچھوؤں کے ساتھ نامناسب رویہ اختیار کرتے دیکھا گیا، جس پر حکام نے کارروائی کی۔
ماحولیاتی اتھارٹی نے شہریوں، مقامی رہائشیوں اور سیاحوں پر زور دیا ہے کہ سمندری کچھوؤں کے گھونسلے بنانے والے مقامات کے دوروں سے متعلق قوانین اور ہدایات پر سختی سے عمل کریں۔ حکام کے مطابق راس الحد میں پیش آنے والا واقعہ جنگلی حیات کے تحفظ سے متعلق عمانی قوانین اور ضوابط کی خلاف ورزی ہے۔
اتھارٹی نے بتایا کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیو کی نگرانی کے بعد متعلقہ حکام نے کارروائی کی۔ ماحولیاتی اتھارٹی کا کہنا ہے کہ حیاتیاتی تنوع کا تحفظ ہر فرد کی مشترکہ ذمہ داری ہے، اس لیے سمندری کچھوؤں کو چھونے، ان کے قریب جانے یا انہیں پریشان کرنے سے گریز کیا جائے تاکہ ان کی حفاظت اور قدرتی مسکن کو محفوظ رکھا جاسکے۔
حکام نے سیاحوں اور دیگر افراد سے اپیل کی ہے کہ وہ جنگلی حیات کو نقصان پہنچانے والی کسی بھی خلاف ورزی یا سرگرمی کی اطلاع دیں۔ عمانی حکام نے واضح کیا ہے کہ جنگلی حیات کو نقصان پہنچانے یا قدرتی مساکن کو خطرے میں ڈالنے والے اقدامات برداشت نہیں کیے جائیں گے۔
مقامی عمانی میڈیا کی جانب سے آگاہی کے لیے شیئر کی گئی ویڈیو میں سیاح کو ایک سمندری کچھوے کی پشت پر بیٹھے، اپنے کندھے کے پٹھے دکھاتے اور ایک چھوٹے کچھوے کو ہاتھ میں پکڑے دیکھا گیا۔
راس الحد عمان کے شرقیہ ریجن کے ولایت صور میں واقع ہے اور دارالحکومت مسقط سے تقریباً 350 کلومیٹر دور ہے۔ یہ علاقہ سمندری کچھوؤں کے انڈے دینے کے اہم مقامات میں شمار ہوتا ہے، جہاں جون سے اکتوبر کے دوران موسم گرما میں تقریباً 6 ہزار سے 12 ہزار کچھوے انڈے دینے کے لیے پہنچتے ہیں، جس کی وجہ سے ہزاروں سیاح بھی یہاں کا رخ کرتے ہیں۔
راس الحد میں چار اقسام کے سمندری کچھوے پائے جاتے ہیں جن میں گرین ٹرٹل، اولیو رڈلے، ہاکس بل اور لاگر ہیڈ شامل ہیں، جبکہ پانچویں قسم لیدر بیک کچھوا عمان کے ساحلی پانیوں سے متصل علاقوں میں پایا جاتا ہے۔
گرین ٹرٹل کو اس کے کارٹلیج کے سبزی مائل رنگ کی وجہ سے یہ نام دیا گیا ہے اور راس الحد میں یہ عام طور پر پائے جاتے ہیں۔ یہ کچھوے عموماً گھاس، سمندری گھاس اور کائی کو خوراک کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ سمندری کچھوے اپنی زندگی کا زیادہ تر حصہ سمندر میں گزارتے ہیں تاہم موسم گرما میں انڈے دینے کے لیے دوبارہ خشکی پر آتے ہیں۔







