عالمی خبریں

کورونا ویکسین کی تیاری کس مرحلےمیں ہے اور کب تک عام لوگوں کے لیے دستیاب ہوگی؟

عالمی ادارہ صحت کی تیار کردہ فہرست کے مطابق اس 130 قسم کی یا کورونا ویکسین کے ایک 130 مختلف فارمولوں پر کام جاری ہے۔

کورونا وائرس کے پھیلاؤ نے پوری دنیا کو مفلوج کر رکھا ہے۔ لاکھوں لوگ اس بیماری کا شکار ہو چکے ہیں اور یہ سلسلہ ابھی جاری ہے۔ اس وبا کی وجہ سے لوگوں میں خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔ تاہم ڈاکٹر اور دیگر طبعی ماہرین اس موذی مرض سے نمٹنے کے لیے مسلسل کام کر رہے ہیں۔ اس بیماری کا ابھی تک کوئی مکمل علاج درفایت نہیں کیا جا سکا لیکن لوگوں کو اس مرض سے محفوظ  رکھنے کے لیے ویکسین اور دیگر ادویات کی دریافت کے لیے مختلف تجربات جاری ہیں۔ اس مضمون میں ویکسین کی تیاری کے حوالے سے پوچھے جانے والے سوالوں کے جوابات کی کوشش کی گئی ہے۔

سوال: کیا کورونا ویکسین بنانے پر کام جاری ہے؟

جی ہاں اس وائرس کے سامنے آتے ہی دنیا بھر میں طبعی ماہرین نے اس کی ویکسین کی تیاری کے لیے مختلف تجربات شروع کر دیے تھے۔ اس وقت دنیا میں لگ بھگ ایک سو سے زائد کے قریب کمپنیاں ویکسین کے تیاری میں شامل میں ہیں۔ دنیا میں بھر میں بنائی جانے والی ویکیسن میں سے کچھ فارمولے اس وقت انسانوں پر تجربات کے دوسرے اور تیسرے مرحلے میں ہیں۔ جن ممالک میں انسانوں پر ویکسین تجرباتی طور پر لگائی ہے ان میں متحدہ عرب امارات بھی شامل ہے۔

اب تک کی رپورٹس کے مطابق ویکسین کے انسانوں پر تجربات کے کوئی مضر اثرات سامنے نہیں آئے۔ بلکہ اچھی خبر یہ ہے کہ اس وقت جتنی بھی ویکسین جہاں بھی انسانوں پر لگائی گئی ہے اس کے اچھے اثرات ہی سامنے آئے ہیں۔

سوال: کیا اس وقت کورونا کی کسی ویکسین کو انسانوں کے استعمال کے لیے منظور کیا گیا ؟

جی ہاں چین کی آرمی  کے رسرچ یونٹ اور کینسینو بیالوجکس نامی کمپنی کی طرف سے تیار کردہ ویکسین کو چینی آرمی کے استعمال کے لیے منظور کر لیا گیا ہے۔ تاہم یہ ویکسین ایک سال کے لیے منظور کی گئی ہے اور اس کو عام لوگوں کے استعمال کے لیے منظور نہیں کیا گیا۔

اس وقت کورونا ویکسین کی کتنی قسموں پر کام جارے ہے؟

عالمی ادارہ صحت کی تیار کردہ فہرست کے مطابق اس 130 قسم کی یا کورونا ویکسین کے ایک 130 مختلف فارمولوں پر کام جاری ہے۔

ویکسین کتنے مراحل میں تیار کی جاتی ہے؟

ویکسین کی تیاری کے لیے تین مراحل طے کرنا ضروری ہوتے ہیں۔

جن میں پہلے مرحلے پر طبعی ماہرین بہت ہی محدود پیمانے پر جانوروں پر تجربات کرتے ہیں۔

دوسرے مرحلے میں ویکسین کی خوراک کا تجربہ کرنے کے لیے کئی سو کے قریب انسانوں پر یا جانورں کو تجربے میں شامل کیا جاتا ہے۔

تیسرا مرحلہ فائنل مرحلہ ہوتا ہے۔ جس میں ہزاروں انسانوں کو ویکسین لگائی جاتی ہے اور اس کے اثرات کو جانچا جاتا ہے۔ ان اثرات کو مدنظر رکھتے ہوئے ویکسین کو عام لوگوں استعمال کی اجازت کے بارے میں فیصلہ کیا جاتا ہے۔

آپریشن وارپ اسپیڈ (Warp speed)  کیا ہے؟

آج کل کورونا سے نمنٹنے کے لیے آپریشن وارپ اسپیڈ کا تذکرہ بار بار سننے میں آتا ہے۔ دراصل آپریشن وارپ اسپیڈ امریکی حکومت کی جانب سے کورونا سے نمٹںے کے لیے بنایا گیا ایک پروگرام ہے۔ جس کےتحت ویکسین کی تیاری اور اس کی مارکیٹ کی تک رسائی اور لوگوں کو لگائے جانے کے عمل کو تیز اور یقینی بنایا جائے گا۔ اس پروگرام کا عزم ہے کہ وہ کورونا ویکسین کی 300 ملین خوراکیں جنووری 2021 تک اپنے لوگوں تک پہنچائے گا۔

اس پروگرام کا بجٹ 10 ارب امریکی ڈالر ہے۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق اس وقت وارپ آپریشن میں کورونا ویکسین کے 14 فارمولوں کا انتخاب کیا گیا ہے۔ اور اس پروگرام کے تحت ان فارمولوں کو تیار کرنے کے لیے بڑی بڑی امریکی کپنیوں کو ٹھیکے ددیئے گئے ہیں۔

ویکسین عام لوگوں کے لیے کب تک دستیاب ہوگی؟

یاد رکھا جائے کہ ویکسین کی تیاری ایک احساس عمل ہے۔ اس کی تیار دوران  ماہرین کے لیے ضروری ہوتا کہ مقرر کردہ حفاظتی اقدامات کو نظر انداز نہ کیا جائے۔ دوسرا ویکسین کی اتنی بڑی تعداد میں تیاری کے لیے بہت زیادہ سرمائے اور استعداد کار کی ضرورت ہوتی ہے۔ لہذا ان حالات میں جب اربوں لوگوں کے لیے ویکسین تیار کی جانی ہے تو ماہرین کا کہنا ہے کہ ویکسین 2021 تک مارکیٹ میں آجائے گی۔ لیکن کچھ ماہرین کے خیال میں تمام انسانوں  کو اس کے لگائے جانے میں کچھ وقت اور درکار ہوگا جس کم از کم دو سال اور لگ سکتے ہیں۔

Source : Gulf News

 

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button